فوج ملکی سلامتی کی ضامن ہے،فوج کو متنازع نہیں بنانا چاہیے،صدر مملکت

ملک کا آئینی سربراہ ہوں اور ادارے میرے ہیں،سب کا احترام ہے،عارف علوی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن ہے،فوج کو متنازع نہیں بنانا چاہیے۔

لاہور میں سینئر صحافیوں سے ملاقات میں ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنا فوج کا ہی کارنامہ تھا،ان کا احترام کرنا چاہیے۔ سیاستدانوں کو سمجھاتا رہاہوں فوج کو زیربحث مت لایا کریں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ میں ہم حساب کتاب رکھنے پرپکڑے گئے۔ پارٹی سیکرٹری کے طور پرمیں نے اسد قیصر اور سیما ضیاء کو اکاؤنٹ کھولنے کا کہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی قانون کے مطابق فنڈنگ کےلیے کمپنی بنانا ہوتی ہے، امریکا، کینیڈا میں قانون کے مطابق کمپنی کھولنے پر کہا گیا کہ یہ پرائیویٹ کمپنیز ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو کہتا رہتاہوں چیزیں ٹھیک نہیں ہیں۔ پریشان ہوں اور محسوس کرتاہوں کہ خلیج بڑھتی جارہی ہے اسے کم ہونا چاہیے۔ تمام پارٹیز کو مثبت،اہم معاملات پر افہام وتفہیم پیدا کرناچاہیے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ چند ماہ قبل تو تمام پارٹیاں جلد الیکشن کی بات کررہی تھیں لیکن اب ہی رائے بدلی ہے، الیکشن اچھا حل ہے تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر طے کریں کہ کب الیکشن ہونے چاہییں۔

عارف علوی کا کہنا تھا کہ سیاستدان ایک میز پر نہیں بیٹھ رہے،ان کو اکٹھا بٹھانےکی ضرورت ہے، صدرکی حیثیت سے خود اکٹھا نہیں کرسکتا،کہہ ہی سکتا ہوں۔ سیاستدانوں کو کلاس روم کی طرح گھنٹی بجاکر تو بٹھایا نہیں جاسکتا۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ عدلیہ اور آرمی چیف کی تقرری پر بھی باتیں ہورہی ہیں، ججز تقرری پر چیف جسٹس نے کہا کوئی معیار ہونا چاہیے اور میں اسکا حامی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان میرے لیڈر اور دوست ہیں ان سے واٹس ایپ پر رابطہ رہتاہے تاہم جتنی ملاقات اور فون پر شہباز شریف سے گفتگو ہوئی اتنی بطور وزیراعظم عمران خان سے نہیں ہوئی۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی85 سمریاں آئیں،صرف 4 یا 5 کو روکا تھا، ای وی ایم منصوبہ میری تخلیق ہے۔

ای وی ایم سے متعلق عارف علوی کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں نوید قمرا ور شازیہ مری ای وی ایم پر کمیٹی میں شامل تھے، اس پر سب کا اتفاق تھا، ای وی ایم پر آصف زرداری اور نوازشریف دورسے کوشش کررہا ہوں۔

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ منیجمنٹ کے ایشوپرعمران خان کو بتاتا رہاہوں لیکن انکا اپنا مؤقف تھا۔ سوشل میڈیا پر سب برا نہیں،90 فیصد اچھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی آئینی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں، ملک کا آئینی سربراہ ہوں اور تمام ادارے میرے ہیں،سب کا احترام ہے، میرے پاس تو ایک ہی آئینی بندوق ہے،اس سے چڑیا مارسکتا ہوں یا اس پرمیزائل لگالوں۔

PTI

president arif alvi

Prohibited Party Funding Case

Tabool ads will show in this div