پوليس کی شہباز گل پر تشدد اور طبی معائنہ نہ کرانے کے الزام کی ترديد

جھوٹی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، اسلام آباد پولیس

اسلام آباد پولیس نے شہباز گل پر تشدد اور طبی معائنہ نہ کرانے کے الزام کی ترديد کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو ڈاکٹرز کے بورڈ کے پاس لے جا کر طبی معائنہ کروایا اور اس کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں۔

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کو آج بروز جمعہ 12 اگست کو اسلام آباد جج عمر شبیر کی مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔ شہباز گل کو تھانہ کوہسار کی پولیس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے روبرو پیش کیا۔

دوران سماعت شہباز گل نے کہا کہ مجھ پر تشدد کیا جاتا رہا، زخموں کے نشان موجود ہیں، جسمانی چیک اپ کرایا گیا نہ ہی وکلاء سے ملنے دیا جا رہا ہے، سونے نہیں دیا جاتا، ساری ساری رات جگایا جاتا ہے، شدید تشدد کا نشانہ بنایاگیا، میڈیکل ہوا ہی نہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ افواج کے بارے میں ایسی بات کا سوچ بھی نہیں سکتا، جعلی میڈیکل رپورٹ دیکھیں، میں پروفیسر ہوں کوئی کریمنل نہیں، مجھے تھانہ کوہسار میں نہیں رکھا گیا۔

پوليس کی شہباز گل پر تشدد اور طبی معائنہ نہ کرانے کے الزام کی ترديد

دوسری جانب اسلام آباد پوليس نے شہباز گل پر تشدد اور طبی معائنہ نہ کرانے کے الزام کی ترديد کر دی ہے، اور اس حوالے سے بیان بھی جاری کیا ہے۔

ترجمان پولیس نے کہا کہ عدالتی حکم پر ملزم کو ڈاکٹرز کے بورڈ کے پاس لے جا کر طبی معائنہ کروایا، ڈاکٹرز کی رپورٹ کے مطابق ملزم کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں۔

ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ تصاویر میں صاف نظر آ رہا ہے ملزم ہشاش بشاش اور جسمانی طور پر فٹ ہے، دوران تفتیش بھی ملزم کے حقوق کا مکمل خیال رکھا گیا۔

ترجمان پوليس نے کہا کہ ملزم پر تشدد کے متعلق سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، پروپیگنڈا مہم پولیس کے تشخص کو متاثر کرنے کی کوشش ہے، اور جھوٹی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ملزمان کی جانب سے پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔

پوليس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران بے شمار انکشافات سامنے آئے ہیں، تفتيش ميں سامنے آنے والے کرداروں کو بھی شامل تفتیش کیا جاسکتا ہے، اگر ملزم بے گناہ ہے اور فون میں کوئی مواد موجود نہ ہے تو انہیں پولیس کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔

ترجمان پولیس نے مزید کہا کہ تفتیش تمام حالات و شواہد کو مدنظر رکھ کر کی جا رہی ہے، تفتیش کو شواہد کی روشنی میں میرٹ پر یکسو کیا جائے گا، اور فرار ملزمان کی گرفتاری کیلئے کوشش جاری ہے۔

پولیس حکام نے کہا ہے کہ پولیس ریکارڈ عدالت کی معاونت کے لئے ہوتا ہے جو عوام میں شئیر نہیں کیا جاسکتا، تفتیش کی تفصیلات پولیس فائل کا حصہ ہیں اور معزز عدالت کے سامنے پیش کی جائیں گی، پولیس اس کیس سے منسلک تمام افراد کو قانون کے مطابق تفتیش میں شامل کرے گی، عوام سے گزارش ہے کہ پراپیگنڈہ پر کان نہ دھریں۔

Tabool ads will show in this div