اپر کوہستان: نالے میں طغیانی، سیلاب پل بہا کر لے گیا

خیبر پختونخوا کا گلگت بلتستان سے رابطہ منقطع

اپرکوہستان میں داسو اور ملحقہ علاقوں میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جہاں اچاڑ نالے میں طغیانی کے بعد سیلابی ریلہ عارضی پل آر 303 کو بہا کر لے گیا ہے۔

پل گرنے کے باعث خیبر پختونخوا کا گلگت بلتستان سے رابطہ منقطع ہوگیا، جب کہ سیلابی صورت حال اور طغیانی کے باعث شاہراہ قراقرم پر گلگت بلتستان جانے والے سڑک پر ٹریفک کی آمد و رفت بند کردی گئی ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان جانے والے مسافر ناران بابو سر ٹاپ روڈ استعمال کریں۔

حافظ آباد

محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اضلاع کو ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

محکمہ موسمیات فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مرالہ، خانکی اور قادر آباد بیراج کے مقام پر دریائے چناب میں انچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔ قادر آباد بیراج کی انتظامیہ کے مطابق اس وقت قادر آباد کے مقام پر پانی کی آمد 196000 اور اخراج 177000 ہے۔

پی ڈی ایم نے حافظ آباد، گوجرانوالہ،سیالکوٹ، کی ضلعی انتطامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے فوری حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ حافظ آباد نے ممکنہ سیلاب کے پیش نظر 6 فلڈ ریلف سینٹر قائم کر دیئے ہیں۔ جب کہ کشتیاں ضروری سامان فلڈ ریلف سینٹرز پر پہنچا دیا گیا ہے۔ دریا کے قریبی دیہات میں اعلانات بھی کروائے جا رہے ہیں۔

لاہور

بھارت نے دریا چناب میں مزید اضافی پانی چھوڑ دیا، جو سیلابی ریلے کی شکل میں خانکی بیراج پہنچ گیا ہے، جہاں اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک ہوگیا ہے۔

سیلابی پھیلاؤ کے باعث وزیر آباد کے علاقے میں دریا کے پیندے میں فصلیں زیر آب آگئی ہیں، جس کے بعد قادر آباد پر بھی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق مرالہ پر سطح گرنا شروع ہوگئی اور بہاؤ اب بھی 1 لاکھ 42 ہزار کیوسک ہے۔

شکر گڑھ میں ظفرووال کے مقام پر حفاظتی بند نہ ہونے کی وجہ سے جنڈیالہ دیولی اور منگوال کے مقام پر پانی دیہات میں داخل ہوگیا۔ بھارت کی آبی جارحیت کے باعث سیکڑوں ایکڑ دھان کی فصل تباہ ہوگئی، جب کہ مرکزی شاہراہیں بند ہوگئی ہیں، جس سے علاقے کے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

اس موقع پر پاک فوج کے اہل کار بھی مدد کو پہنچ گئے۔ ڈی سی نارووال کا کہنا ہے کہ ہر قسم کے مشکل حالات سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔

کامونکی میں نالہ ڈیک میں پانی کی سطح بلند ہوگئی۔ جس سے موضع ٹھٹھہ اور تھپنالہ کے مقامات سے سیلابی پانی نالہ ڈیک سے باہر آگیا۔ پانی داخل ہونے سے دونوں دیہات کے سیکڑوں ایکڑ زرعی رقبہ پر کاشت دھان اور دیگر فصلیں زیر آب آنے سے تباہ ہوگئیں، جب کہ سکھانہ کے قریب نالہ ڈیک کے بندھ میں شگاف پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مقامی لوگ اور انتظامیہ نالہ ڈیک کے بندھ کو محفوظ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

Tabool ads will show in this div