بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباؤ شديد ڈپريشن ميں تبديل،مزید بارشوں کی پیشگوئی

کراچی میں موسلا دھار بارش، سلسلہ 14 اگست تک جاری رہیگا، محکمہ موسمیات
<p>بشکریہ آن لائن</p>

بشکریہ آن لائن

میٹ آفس کی جانب سے جاری نئی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباؤ شديد ڈپريشن ميں تبديل ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے مزید موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔

محکمہ موسمیات کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی اور ٹھٹھہ کے قريب ہوا کا دباؤ ڈپريشن ميں تبديل ہوا ہے، آنے والے دنوں میں ہوا کا دباؤ شمال مغرب کی جانب حرکت کرے گا، ڈپريشن سے فی الحال ساحلی علاقے کو کوئی خطرہ نہیں، تاہم ماہی گیروں کو سختی سے 14 اگست تک سمندر کا رخ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جب کہ تمام اداروں کو بھی محتاط رہنے کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

محکمے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 12 اور 13 اگست کے دوران موسلا دھار بارش کے باعث کراچی، ٹھٹھہ، بدین، حیدرآباد، دادو، جام شورہ، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیرآباد اور میرپور خاص میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا اندیشہ ہے۔ اس دوران قلعہ سیف اللہ ،لورالائی ،بارکھان، کوہلو، موسی خیل، شیرانی، سبی ، بولان، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، تربت، پنجگور، پسنی، جیوانی اور ڈیرہ غازی خان کے برساتی اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

کراچی میں جمعہ کی شام 6 بجے سے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہوا جو وقفے وقفے سے جاری ہے، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، گولیمار، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، بفرزون، النور، حسن اسکوائر، یونیورسٹی روڈ، گلشن اقبال، گلشن معمار سمیت دیگر علاقوں میں موسلا دھار بارش ہوئی۔

سرجانی ٹاؤن، فور کے، اسکیم تینتیس، لیاری، صدر، آئی آئی چندریگر روڈ اور اولڈ سٹی ایریا میں بھی بارش ہوئی۔

امتحانات ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے بارشوں کی وجہ سے کراچی میں جمعہ 12 اگست اور ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹر آرٹس ریگولر اور پرائیویٹ کے امتحانات ملتوی کردیئے ہیں، یہ امتحانات اب منگل 23 اگست اور بدھ 24 اگست کو ہوں گے۔

بورڈ کا مزید کہنا ہے کہ عملی امتحانات (پریٹیکل) ری شیڈول کرنے کیلئے کالجوں کو ہدایت کردی گئی ہے، جو پرچے ملتوی کئے گئے ہیں ان میں آرٹس ریگولیر و پرائیوٹ کے اسلامک ایجوکیشن، سوکس اور اخلاقیات جبکہ خصوصی امیدواروں کا فائن آرٹس پرچہ دوئم شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ڈاؤ یونیورسٹی میں 12 اور 13 اگست کو ہونے والے (شام/صبح) کے تمام امتحانات بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ ملتوی شدہ امتحانات کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ان امتحانات کا انعقاد کرکٹ گراؤنڈ اوجھا کیمپس اور ڈاؤ میڈیکل کالج میں ہونا تھا۔

اعلامیے کے مطابق آرٹس ریگولر، پرائیویٹ اور خصوصی امیدواروں کے پرچے اور عملی امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔ ملتوی پرچوں میں آرٹس ریگولر،پرائیویٹ کے اسلامک ایجوکیشن،سوکس،اخلاقات کا پرچہ شامل ہے جبکہ خصوصی امیدواروں کا فائن آرٹس سال دوم کا پرچہ بھی ملتوی کردیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ملتوی شدہ پرچے 23 اگست کو انہی امتحانی مراکز پر طےشدہ شیڈول اور وقت پر لیے جائیں گے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عملی امتحانات ری شیڈول کرنے کے لیے کالجوں کو ہدایت کردی گئی ہے۔

کراچی

کراچی / سندھ سمیت ملک بھر میں مون سون کا چوتھا اسپیل جاری ہے۔ میٹ آفس کے مطابق کراچی میں آئندہ 5 روز تک کراچی میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مون سون کا موسم 14 اگست تک اپنا رنگ دکھاتا رہے گا۔ چوتھے اسپیل کے دوران بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، جنوبی پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سےجاری انتباہ میں مزید کہا گیا ہے کہ موسلا دھار بارش سے کراچی، ٹھٹھہ، بدین، حیدرآباد، دادو، جامشورو، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص میں 11 سے 13 اگست تک سیلابی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔

قلعہ سیف اللہ، لورالائی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل، شیرانی، سبی، بولان، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، تربت، پنجگور، پسنی، جیوانی، کوہاٹ، صوابی، نوشہرہ، مردان، پشاور، کرک، بنوں، ٹانک اور وزیرستان میں بھی سیلاب کا امکان ہے۔

پنجاب

پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے تاہم بھکر، لیہ، ساہیوال، بہاولنگر، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور رحیم یار خان میں بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارش سے کشمیر، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں خبردار کیا کہ اس موسم میں پورے ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی۔

پارلیمنٹ لاجز میں سینیٹر سیمی ایزدی کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی کو چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سیلاب اور اربن فلڈنگ کے خطرے پر بھی بریفنگ دی۔ وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا کہ یہ صورتحال معمول بن جائے گی اور ملک کا مجموعی انفراسٹرکچر ایسی آفات کے لیے تیار نہیں ہے جس سے شدید انسانی بحران جنم لے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ موسمیات کی واضح وارننگ کے باوجود صوبائی حکومتوں کے پاس ریلیف اور ریسکیو کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ تاہم وزارت موسمیاتی تبدیلی کے سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے یہ دعویٰ کیا کہ محکمہ موسمیات جدید آلات کی کمی کی وجہ سے بعض علاقوں میں موسم کی حتمی انداز میں پیش گوئی نہیں کر سکتا۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر اس بات سے اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کمیٹی کو بتایا کہ اتھارٹی نے 11 ہزار 639 امدادی سرگرمیاں شروع کی ہیں جبکہ سیلاب سے متاثرہ 23 ہزار 61 افراد کے لیے 78 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جون سے اب تک بارشوں سے متعلقہ حادثات میں 575 اموات ہوئیں جن میں سے 176 بلوچستان میں، 127 سندھ اور 119 پنجاب میں ہوئیں جبکہ 939 افراد زخمی ہوئے۔

گلگت بلتستان میں برفانی جھیل کا سیلاب

دریں اثنا گلگت بلتستان کے ضلع نگر میں برفانی جھیل کا سیلاب ہوپر نالے میں تباہی کا سبب بن گیا جس سے بہت سے لوگ بے گھر ہوگئے۔ سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا اور کئی ایکڑ فصلوں کو نقصان پہنچا جبکہ کئی درخت اور ایک پل پانی میں بہہ گیا۔ شمن کے علاقے کے رہائشی عابد حسین نے بتایا کہ ہوپر نالے میں سیلاب نے کئی گھروں کو نقصان پہنچایا ہے جس سے کم از کم 12 خاندان بے گھر ہو گئے۔

بلوچستان میں پھر سیلابی صورت حال

شمالی بلوچستان میں مون سون کا چوتھا اسپیل طوفانی شکل اختیار کرگیا ہے۔ چمن میں قلعہ سیف اللہ کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی جس کی وجہ سے مسلم باغ میں شدید سیلابی صورت حال ہے۔ لیویز حکام کے مطابق سیلابی ریلے مسلم باغ قصبے میں داخل ہوگئے جس کی وجہ سے بازار میں کھڑی گاڑیاں ریلے میں بہہ گئیں۔ لیویز حکام کا کہنا ہے کہ مسلم باغ بازار ریلے میں 2 افراد بھی بہہ گئے جن کی تلاش جاری ہے۔ مسلم باغ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کی ہدایات کی گئی ہے۔

قلعہ سیف اللہ میں ڈپٹی کمشنرکی عدم تعیناتی سے انتظامی امور متاثر ہورہے ہیں، وزیراعظم نے متاثرین کو کھانا فراہم نہ کرنے کی شکایت پر ڈپٹی کمشنرکو معطل کیا تھا۔

گزشتہ روز شمالی، وسطی اور جنوبی بلوچستان کے علاقوں میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حکام نے بتایا کہ چمن، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، پشین، زیارت، ہرنائی، لورالائی، بارکھان، ژوب، سبی، نصیر آباد، نوشکی، ٹوبہ اچکزئی، مستونگ، قلات، خضدار، سوراب، بولان، سنجاوی، مختار اور لسبیلہ میں دن بھر وقفے وقفے سے بارش جاری رہی۔ کوئٹہ میں بھی سہ پہر 2 گھنٹے تک تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورت حال پیدا ہوگئی، ان علاقوں میں سڑکیں زیر آب آ گئیں، جب کہ بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔

ریسکیو حکام اور کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ٹیموں نے فوری طور پر ان علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ کچھ کچے مکانات کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے محکمہ موسمیات کی جانب سے طوفانی بارشوں کے ایک اور اسپیل کی پیش گوئی کے بعد سیلاب کی وارننگ جاری کر دی۔ ضلعی انتظامیہ کو لوگوں کو نالے اور ندیوں کے قریبی علاقوں سے دور منتقل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

سیلابی صورت حال

اپرکوہستان میں داسو اور ملحقہ علاقوں میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جہاں اچاڑ نالے میں طغیانی کے بعد سیلابی ریلہ عارضی پل آر 303 کو بہا کر لے گیا ہے۔

پل گرنے کے باعث خیبر پختونخوا کا گلگت بلتستان سے رابطہ منقطع ہوگیا، جب کہ سیلابی صورت حال اور طغیانی کے باعث شاہراہ قراقرم پر گلگت بلتستان جانے والے سڑک پر ٹریفک کی آمد و رفت بند کردی گئی ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان جانے والے مسافر ناران بابو سر ٹاپ روڈ استعمال کریں۔

حافظ آباد

محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اضلاع کو ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

محکمہ موسمیات فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مرالہ، خانکی اور قادر آباد بیراج کے مقام پر دریائے چناب میں انچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔ قادر آباد بیراج کی انتظامیہ کے مطابق اس وقت قادر آباد کے مقام پر پانی کی آمد 196000 اور اخراج 177000 ہے۔

پی ڈی ایم نے حافظ آباد، گوجرانوالہ،سیالکوٹ، کی ضلعی انتطامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے فوری حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ حافظ آباد نے ممکنہ سیلاب کے پیش نظر 6 فلڈ ریلف سینٹر قائم کر دیئے ہیں۔ جب کہ کشتیاں ضروری سامان فلڈ ریلف سینٹرز پر پہنچا دیا گیا ہے۔ دریا کے قریبی دیہات میں اعلانات بھی کروائے جا رہے ہیں۔

لاہور

بھارت نے دریا چناب میں مزید اضافی پانی چھوڑ دیا، جو سیلابی ریلے کی شکل میں خانکی بیراج پہنچ گیا ہے، جہاں اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک ہوگیا ہے۔

سیلابی پھیلاؤ کے باعث وزیر آباد کے علاقے میں دریا کے پیندے میں فصلیں زیر آب آگئی ہیں، جس کے بعد قادر آباد پر بھی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق مرالہ پر سطح گرنا شروع ہوگئی اور بہاؤ اب بھی 1 لاکھ 42 ہزار کیوسک ہے۔

شکر گڑھ میں ظفرووال کے مقام پر حفاظتی بند نہ ہونے کی وجہ سے جنڈیالہ دیولی اور منگوال کے مقام پر پانی دیہات میں داخل ہوگیا۔ بھارت کی آبی جارحیت کے باعث سیکڑوں ایکڑ دھان کی فصل تباہ ہوگئی، جب کہ مرکزی شاہراہیں بند ہوگئی ہیں، جس سے علاقے کے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

اس موقع پر پاک فوج کے اہل کار بھی مدد کو پہنچ گئے۔ ڈی سی نارووال کا کہنا ہے کہ ہر قسم کے مشکل حالات سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔

کامونکی میں نالہ ڈیک میں پانی کی سطح بلند ہوگئی۔ جس سے موضع ٹھٹھہ اور تھپنالہ کے مقامات سے سیلابی پانی نالہ ڈیک سے باہر آگیا۔ پانی داخل ہونے سے دونوں دیہات کے سیکڑوں ایکڑ زرعی رقبہ پر کاشت دھان اور دیگر فصلیں زیر آب آنے سے تباہ ہوگئیں، جب کہ سکھانہ کے قریب نالہ ڈیک کے بندھ میں شگاف پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مقامی لوگ اور انتظامیہ نالہ ڈیک کے بندھ کو محفوظ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

Tabool ads will show in this div