شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،بخشی خانے منتقل

شہبازگل کو نامعلوم وجوہات پر واپس بخشی خانے لایا گیا

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) ( PTI ) کے رہنما شہباز گل (Shahbaz Gill ) کو جیل کے بجائے واپس بخشی خانے منتقل کردیا گیا ہے۔ شہباز گل کو واپس بخشی خانے منتقل کرنے کی وجوہات سامنے نہ آسکیں۔ قبل ازیں عدالت نے آج جمعہ 12 اگست کو پی ٹی آئی رہنما کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے، جب کہ پولیس کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی گئی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کو آج بروز جمعہ 12 اگست کو اسلام آباد جج عمر شبیر کی مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔ شہباز گل کو تھانہ کوہسار کی پولیس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے روبرو پیش کیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے پولیس اہلکاروں کو عدالت کے احاطے اور اطراف میں تعینات کیا گیا ہے۔

آج سماعت میں کیا ہوا؟

اس موقع پر وکلاء کی درخواست پر شہباز گل کی ہتھکڑی کھول دی گئی اور عدالت نے قانونی ٹیم کو شہباز گل سے ملاقات کی اجازت دی۔ شہباز گل کی قانونی ٹیم نے کمرہ عدالت میں ہی ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما علی اعوان، کنول شوزب اور فواد چوہدری بھی ڈسٹرکٹ کورٹ میں موجود تھے۔

دلائل کے آغاز میں پولیس حکام کی جانب سے ایک بار پھر شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ایک موبائل گاڑی میں رہ گیا تھا، دوسرا شہباز گل کے پاس تھا، آڈیو پروگرام کی سی ڈی حاصل کرلی جو میچ کرگئی ہے۔ اس دوران شہباز گل نے عدالت کے سامنے بات کرنا شروع کردی۔

شہباز گل کا عدالت میں مؤقف

عدالت میں دوران سماعت شہباز گل نے کہا کہ مجھ پر تشدد کیا جاتا رہا، زخموں کے نشان موجود ہیں، جسمانی چیک اپ کرایا گیا نہ ہی وکلاء سے ملنے دیا جا رہا ہے، سونے نہیں دیا جاتا، ساری ساری رات جگایا جاتا ہے، شدید تشدد کا نشانہ بنایاگیا، میڈیکل ہوا ہی نہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ افواج کے بارے میں ایسی بات کا سوچ بھی نہیں سکتا، جعلی میڈیکل رپورٹ دیکھیں، میں پروفیسر ہوں کوئی کریمنل نہیں، مجھے تھانہ کوہسار میں نہیں رکھا گیا۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل نے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ عدالتی کمرے میں شہباز گل کی گفتگو کا ٹرانسکرپٹ بھی پڑھا گیا۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ فوج کے مختلف رینکس کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ تفتیش کا مقصد یہ ہے کہ ہم شواہد اکٹھے کرنا چاہتے ہیں۔ میڈیا ٹرائل نہیں ہو رہا، قانونی کارروائی آگے بڑھا رہے ہیں، شہباز گل کی ایف آئی اے فرانزک رپورٹ مثبت آئی ہے۔ پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں یہ بھی کہا کہ شہباز گل کا ٹرانسکرپٹ اداروں کے خلاف ہے، موبائل ملے گا تو فرانزک سے سب کچھ پتا چل جائے گا۔

جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ تشدد کے نشانات کپڑوں پر تو نہیں تاہم کمر پر نشانات ہیں، میڈیا پر چلا رہے ہیں کہ دوران تفتیش ترانہ پڑھنا شروع ہوگئے، کہا جا رہا ہے کہ شہباز گل وعدہ معاف گواہ بن گئے، جس پر عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیسے پتا چلا کہ دوسرا موبائل انہی کے پاس ہے؟ جواباً تفتشی افسر نے کہا کہ ہماری سورس نے بتایا ہے کہ ان کے پاس دوسرا موبائل بھی تھا۔

شہباز گل نے کہا کہ لینڈ لائن نمبر سے بات ہوئی تھی موبائل سے تو ہوئی ہی نہیں، وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ یہ موبائل لینا چاہتے ہیں جس میں سب سیاسی سرگرمیاں ہیں، جو رٹی رٹائی تقریر انہوں نے کی اس میں کچھ بھی نہیں ہے، پولی گرافک ٹیسٹ کیلئے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہی نہیں، پولی گرافک ٹیسٹ تو ویسے بھی کرایا جاسکتا ہے، اب یہ چاہتے ہیں کہ ملزم کو کراچی یا شمالی علاقہ جات لیکر جائیں۔

ملزم شہباز گل کے وکیل علی بخاری نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک کیس میں 2 مقدمے نہیں ہو سکتے، کراچی کے مقدمے میں ملزم کو عدالت نے اسی روز رہا کردیا، ایک ہی قسم کے الزامات ایک ہی قسم کے ملزم، مدعی کا بیان انہوں نے کیا لیا؟انہوں نے کوئی تائیدی بیان لیا؟۔

اس دوران شہباز گل بات کرنے کے لیے دوبارہ روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ بار بار سوال ہوتا ہے کہ عمران خان نے تمہیں یہ کہا تھا، میں کہتا ہوں میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ عدالت نے دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد فیصلہ ساڑھے 10 بجے تک محفوظ کیا اور بعد ازاں پولیس کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے شہباز گل کو جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

تحریری حکم نامہ

جاری کردہ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملزم پہلے ہی اعتراف کرچکا کہ اس کا موبائل ڈرائیور کے پاس ہے، پولیس نے ڈرائیور اور اہل خانہ کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ صرف موبائل برآمدگی کیلئے مزید جسمانی ریمانڈ مانگنا درست نہیں۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ 9 محرم کو موبائل فون کام نہیں کر رہے تھے۔ تحریری حکمنامے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزم کے مطابق اس نے بنی گالہ آفس میں لینڈ لائن کے ذریعے انٹرویو دیا۔ پولیس نے نجی چینل سے انٹرویو کے نمبر کی تفصیلات نہیں لیں۔ پولیس ثبوت دینے میں ناکام رہی کہ ملزم نے موبائل سے انٹرویو دیا۔ موبائل فون حاصل کرنا اس تفتیش کے لئے درست نہیں۔ ملزم سے مکمل تفتیش کرنے کے لیے 73 گھنٹے کافی تھے۔ شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے۔

قبل ازیں شہباز گل کی عدالت آمد پر تحریک انصاف کے کارکنان نے شدید نعرے لگائے۔ پولیس تاحال شہباز گل کا موبائل فون برآْمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ امکان ہے کہ پولیس کی جانب سے آج شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔ اس سے قبل پولیس کی جانب سے شہباز گل کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی، جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ کو منظور کیا تھا۔ شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں راہداری ریمانڈ پر جیل منتقل کیا جائے۔

عدالت میں جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے پولیس حکام نے مؤقف اپنایا تھا کہ ملزم شہباز گل سے اس کا موبائل فون برآمد کرنا ہے، ملزم جس پیپرسے دیکھ کر بول رہاتھا وہ پیپر بھی برآمد کرنا ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ پروگرام کس کے کہنے پر ہوا اس بارے میں بھی تفتیش کرنی ہے، جس پر شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ میرے مؤکل نے پروگرام کسی کے کہنے پر نہیں کیا۔

عدالت نے دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کچھ دیر کیلئے محفوظ کیا تھا۔ اور بعد ازاں 12 اگست بروز جمعہ عدالت میں دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ شہباز گل کے خلاف تھانہ کوہسار میں سٹی مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کی مدعیت میں 9 اگست بروز منگل مقدمہ درج کیا گیا۔ جب کہ ان کی گرفتاری بھی اسی روز عمل میں آئی تھی۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر فواد چوہدری اور مراد سعید نے شہباز گل کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

ہتھکڑیاں لگا کر

شہباز گل کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت لایا گیا تھا، جب کہ انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے اہلکاروں نے انہیں گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری عدالتی احاطے اور اطراف میں تعینات کی گئی، جس میں پولیس کمانڈوز بھی موجود رہے۔ عدالت پیشی کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کا کوئی رہنما اس موقع پر موجود نہیں تھے، نہ ہی کوئی کارکن موجود تھا۔

میڈیا کا داخلہ بند

شہباز گل کو کمرہ عدالت میں پہنچانے کے بعد عدالت کے دروازے بند کردیئے گئے تھے، جب کہ میڈیا نمائندوں کو بھی اندر آنے سے روک دیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ جج کے حکم پر میڈیا نمائندگان کو روکا گیا ہے۔

بغاوت کے مقدمے کی تفصیل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل کے خلاف سٹی مجسٹریٹ کی مدعیت میں درج بغاوت کے مقدمے کی تفصیل سامنے آگئی۔ تھانہ کوہسار میں اداروں کے خلاف مبینہ غداری سمیت سنگین نوعیت کے 10 مقدمات درج ہیں۔

ایف آئی آر میں درج ہے کہ شہباز گل نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ایجنڈے کی تکمیل کے لیے نجی ٹی وی چینل پر الفاظ کہے۔

مقدمے میں کہا گیا کہ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کی انتظامیہ اس معاملے میں شریک جرم ہے، جس نے ملزم کو دانستہ طور پر پورا موقع دیا۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ ٹی وی پر شہباز گل کا بیان اور تقریر کا مقصد فوج میں بغاوت پھیلانا اور سازش کرنا تھا، اُن کی کوشش تھی کہ فوج کے مختلف گروہ بن جائیں۔

مقدمے میں کہا گیا کہ شہباز گل کے بیان اور تقریر کا مقصد تھا کہ عوام میں پاک فوج کے خلاف سازش کے تحت نفرت پھیلائی جائے۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ پی ٹی آئی رہنما کے مقصد کا فوجی جوانوں کو اپنے افسران کا حکم نہ ماننے کی ترغیب دینا تھا۔

مقدمے میں کہا گیا کہ شہباز گل نے ملک میں انتشار پھیلانے اور فوج کو کمزور اور تقسیم کرنے کے لیے بیان دیا۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ شہباز گل نے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے بیان دیا، وہ ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل کی مجرمانہ سازش کے مرتکب ہوئے ہیں۔

میں فوج سے محبت کرنے والا بند ہوں

عدالت آمد پر شہباز گل خوشگوار موڈ میں مسکراتے ہوئے نظر آئے۔ عدالتی احاطے میں موجود کچھ لوگوں نے ان کے حق میں اور کچھ نے ان کے خلاف نعرے لگائے۔ صحافیوں کی جانب سے جب شہباز گل سے ان کے دیئے گئے بیان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بیان فوج سے بہت کرنے والے کا بیان تھا۔

صحافیوں کی جانب سے شہباز گل سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو اپنے دیئے گئے بیان پر کوئی شرمندگی ہے؟ کیا وہ بیان آپ کا تھا یا پارٹی یا عمران خان کا؟، جس پر شہباز گل نے کہا کہ میرے بیان میں ایسا کچھ غلط نہیں کہ جس پر مجھے شرمندگی ہو۔ وہ ایک محب وطن کا بیان ہے، صحافی نے پھر ان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے عوام کو فوج کے خلاف اکسانے کی کوشش نہیں کی؟ جس پر شہباز گل نے کہا کہ میں نے عوام کو فوج کے خلاف اکسانے کی کوشش نہیں کی۔

مکمل صحت مند

اسلام آباد پولیس کی جانب سے شہباز گل کو 11 اگست بروز جمعرات طبی معائنے کیلئے پمز اسپتال لایا گیا، جہاں طبّی بورڈ نے شہباز گل کو مکمل صحت مند قرار دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق شہباز گل کو صحت کا کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں۔ شہباز گل کا میڈیکل 3 رکنی بورڈ نے پمز اسپتال میں کیا۔

طبی رپورٹ کے مطابق شہبازگل کا بلڈ پریشر بھی نارمل ہے اور وہ مکمل تندرست ہیں، شہباز گل کسی بیماری کا شکار نہیں ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عدالت نے گزشتہ روز گرفتار رہ نما کے طبّی معائنے کی ہدایت کی تھی۔ شہباز گل کی جانب سے گزشتہ روز عدالت کے سامنے کہنا تھا کہ انہیں نے شہباز گل کے کپڑوں پر خون کے دھبے دیکھے ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے کہ ان کا فوری طور پر طبی معائنہ کرایا جائے۔

دوران تفتیش شہباز گل کے انکشافات

تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل نے پولیس کی تحویل میں انکشاف کیا کہ ان کا موبائل ان کے ڈرائیور کے پاس ہے اور اس میں مقدمے کے حوالے سے بہت سا مواد موجود ہے۔

اسلام آباد پولیس کی تردید اور مؤقف

پولیس کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس اس کیس سے جڑے تمام تر شواہد و ثبوت اکٹھے کررہی ہے، شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر چھاپے اور گرفتاری کا عمل قانونی ہے۔

پولیس حکام نے کہا کہ کیس کا دائرہ کار اسلام آباد کے علاوہ دیگر صوبوں تک بھی پھیلایا جاسکتا ہے، جہاں کہیں بھی قانونی کاروائی کی ضرورت پڑی پولیس اپنا کام کرے گی، اور جو لوگ غلط خبریں اور عوام میں اشتعال پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

شہبازگل کے انکشاف پر پولیس کا چھاپہ اور ایف آئی آر

پولیس نے شہباز گل کے ڈرائیور اظہاراللہ کے گھر تفتیشی ٹیم کے چھاپے کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔

شہباز گل کے اسسٹنٹ و اہلیہ سمیت 8 ملزمان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 353,382,186,506,147,149 کے تحت درج کی گئی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق شہباز گل نے دوران تفتیش بتایا کہ موبائل پرسنل اسسٹنٹ اظہار اللہ کو دے دیا تھا، اور ملزم نے تفتیش میں بتایا کہ موبائل میں مقدمہ سے متعلق کافی مواد موجود ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق پولیس پارٹی شہباز گل کے انکشاف پر ملزم کا موبائل برآمد کرنے گئی تھی، لیکن اظہار اللہ کے گھر پہنچنے پر ملزم و اہلیہ اور 6 نامعلوم افراد نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا۔

ايف آئی آر کے متن میں لکھا ہے کہ ملزمان نے کانسٹیبل سجاد شاہد کا موبائل، اےٹی ایم، سروس کارڈ اور 15ہزار روپے چھین لئے، اور ہاتھا پائی کے دوران کانسٹیبل سجاد شاہد کی یونیفارم کے بٹن توڑ دیئے۔

ایف آئی آر میں بتایا کہ موقع سے ایک ملزم نعمان اور اس کی اہلیہ سارہ مہرین کو گرفتار کرلیا گیا، جب کہ حزب اللہ، اظہار اللہ، سردار عمران، ظفر اقبال اور دیگر دو ملزمان موقع سے بھاگ گئے۔

Tabool ads will show in this div