شہباز گل سے ان کی لیگل ٹیم کی ملاقات کی درخواست مسترد

پولیس ملزم سے تفتیش کررہی ہے، وکیل استغاثہ

عدالت نے شہباز گل سے ان کی لیگل ٹیم کی ملاقات کی درخواست مسترد کردی۔

جسمانی ریمانڈ پر پولیس حراست میں موجود تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل کی قانونی ٹیم نے ملاقات کیلئے اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں درخواست دائرکی۔

شہبازگل کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ لیگل ٹیم شہباز گل سےملاقات کرناچاہتی ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ ملاقات کی اجازت دی جائے۔

پراسیکیوٹر راناحسن عباس نے شہبازگل سے آج ملاقات کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس ملزم سے تفتیش کررہی ہے، کل شہباز گل کو عدالت میں پیش کرنا ہے، لیگل ٹیم کل شہباز گل سے ملاقات کرلے۔

جوڈیشل میجسٹریٹ عمر شبیر نے لیگل ٹیم اور پراسیکیوٹرکے دلائل کے بعد شہباز گل سے ملاقات کی درخواست مسترد کردی۔

واضح رہے کہ 9 اگست عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہبازگل کو پاک فوج میں بغاوت پر اُکسانے کے الزام میں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق پی ٹی آئی رہنما کو گرفتار کرکے تھانہ بنی گالہ منتقل کیا گیا ہے۔ شہباز گل پر بغاوت پر اکسانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔

10 اگست بروز بدھ پولیس نے شہبازگل کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا، جہاں پولیس کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، تاہم عدالت کی جانب سے 14 روز جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے شہباز گل کو 2 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی گئی، اور شہباز گل کو 12 اگست کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

پی ٹی آئی قیادت کے الزامات اور حقیقت

شہبازگل کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے بہت سے الزامات لگائے گئے، اور فواد چوہدری کی جانب سے کہا گیا کہ شہبازگل کو سادہ لباس افراد نے اغوا کیا، جب کہ جس گاڑی میں شہبازگل کو لے جایا گیا وہ بھی بغیر نمبر پلیٹ تھی۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ شہبازگل کو گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا۔

مراد سعید ( Murad Saeed ) کا کہنا تھا کہ “کس کس کو گرفتار کروگے؟ کتنے صحافیوں پر پابندی لگاؤ گے؟ شہباز گل شہباز گل کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور ان کی گاڑی کے شیشے بھی توڑ دیئے۔

دوسری جانب شہبازگل کی گرفتاری کے وقت کی سی سی ٹی فوٹیج سامنے آگئی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ شہبازگل کو سادہ لباس میں ملبوس افراد نے نہیں بلکہ باوردی پولیس والوں نے گرفتار کیا۔

ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ شہبازگل کو تشدد کا نشانہ بھی نہیں بنایا گیا بلکہ آرام سے چلتے ہوئے ان کی گاڑی سے دوسری گاڑی پر منتقل کیا گیا۔

پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے شہبازگل کے ڈرائیور پر بھی تشدد کا الزام لگایا گیا، تاہم بروقت ویڈیو اور فوٹو سامنے آنے کے بعد پتہ چلا کہ شہبازگل کے ڈرائیور پر تشدد کا الزام بھی جھوٹا تھا۔

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار ڈرائیور کی جانب گئے ہی نہیں، اور شہبازگل کی گرفتار کے وقت ڈرائیور گاڑی سے باہر آیا جس کے الٹے ہاتھ میں موبائل بھی دیکھا جاسکتا ہے، تاہم اگلے چند ہی لمحوں میں وہی ہاتھ زخمی ہونے کا ڈرامہ رچایا گیا اور اس ہاتھ پر پٹی بھی باندھ دی گئی۔

Tabool ads will show in this div