شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر رات گئے چھاپہ، بیوی کی مبینہ گرفتاری

عوام سے گزارش ہے کہ جھوٹی خبروں پر دھیان نہ دیں، اسلام آباد پولیس

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ رات گئے چھاپہ مار کارروائی میں شہبازگل کے اسسٹنٹ کی بیوی کو اغوا کرلیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل اور رہنما فیصل چوہدری کے مطابق پہلے سے گرفتار پی ٹی آئی رہنما شہبازگل کے اسسٹنٹ کے گھر میں رات گئے چھاپہ مارا گیا، اور اس کی بیوی کو گرفتار کرلیا گیا۔

فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ اسسٹنٹ اظہار کی بیوی کو نامعلوم افراد لے گئے اور کہاں لے کر گئے یا کہاں رکھا گیا کچھ معلوم نہیں۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ تھوڑی دیر بعد اظہار کی اہلیہ کے غوا کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دیں گے۔

اسلام آباد پولیس کا مؤقف

دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے بیان جاری کیا ہے کہ جو لوگ غلط خبریں اور عوام میں اشتعال پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، اسلام آباد کیپیٹل پولیس قانون کی عملداری کو یقینی بنائے گی۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ جہاں کہیں بھی قانونی کاروائی کی ضرورت پڑی پولیس اپنا کام کرے گی۔کیس کا دائرہ کار اسلام آباد کے علاوہ دیگر صوبوں تک بھی پھیلایا جاسکتا ہے۔

پولیس حکام نے کہا کہ جو لوگ ثبوت چھپانے یا شواہد مٹانے میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، عوام سے گزارش ہے کہ جھوٹی خبروں پر دھیان نہ دیں۔

پولیس حکام نے مزید کہا کہ شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر چھاپے اور گرفتاری کا عمل قانونی ہے، ڈرائیور کے اہلِ خانہ نے کارِ سرکار میں عملی مزاحمت کی۔ البتہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس اس کیس سے جڑے تمام تر شواہد و ثبوت اکٹھے کررہی ہے۔

شہبازگل کی گرفتاری

واضح رہے کہ 9 اگست منگل کے روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کو پاک فوج میں بغاوت پر اُکسانے کے الزام میں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

گزشتہ روز شہبازگل کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے ان کی 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے جمعے کے روز شہبازگل کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت کے الزامات اور حقیقت

شہبازگل کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے بہت سے الزامات لگائے گئے، اور فواد چوہدری کی جانب سے کہا گیا کہ شہبازگل کو سادہ لباس افراد نے اغوا کیا، جب کہ جس گاڑی میں شہبازگل کو لے جایا گیا وہ بھی بغیر نمبر پلیٹ تھی۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ شہبازگل کو گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا۔

مراد سعید ( Murad Saeed ) کا کہنا تھا کہ “کس کس کو گرفتار کروگے؟ کتنے صحافیوں پر پابندی لگاؤ گے؟ شہباز گل شہباز گل کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور ان کی گاڑی کے شیشے بھی توڑ دیئے۔

دوسری جانب شہبازگل کی گرفتاری کے وقت کی سی سی ٹی فوٹیج سامنے آگئی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ شہبازگل کو سادہ لباس میں ملبوس افراد نے نہیں بلکہ باوردی پولیس والوں نے گرفتار کیا۔

ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ شہبازگل کو تشدد کا نشانہ بھی نہیں بنایا گیا بلکہ آرام سے چلتے ہوئے ان کی گاڑی سے دوسری گاڑی پر منتقل کیا گیا۔

پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے شہبازگل کے ڈرائیور پر بھی تشدد کا الزام لگایا گیا، تاہم بروقت ویڈیو اور فوٹو سامنے آنے کے بعد پتہ چلا کہ شہبازگل کے ڈرائیور پر تشدد کا الزام بھی جھوٹا تھا۔

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار ڈرائیور کی جانب گئے ہی نہیں، اور شہبازگل کی گرفتار کے وقت ڈرائیور گاڑی سے باہر آیا جس کے الٹے ہاتھ میں موبائل بھی دیکھا جاسکتا ہے، تاہم اگلے چند ہی لمحوں میں وہی ہاتھ زخمی ہونے کا ڈرامہ رچایا گیا اور اس ہاتھ پر پٹی بھی باندھ دی گئی۔

جواد احمد خان Aug 12, 2022 06:10am
عجیب لوگ ہو آپ... ایک طرف مریم صفدر گرفتار شدگان کی رہائی کا مطالبہ کررہی ہے تو دوسری طرف آپ ڈھٹائی دکھارہے ہیں.
Tabool ads will show in this div