عورت کو اختیار چاہیے تو وہ بھی کام کرے سارا بوجھ مرد کیوں اٹھائے، شہریار منور

کئی ایسی خواتین دیکھی ہیں جو زیادہ کمائی پر اپنے شوہر کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتی ہیں، اداکار

اداکار شہریار منور کا کہنا ہے کہ اگرعورت اختیار چاہیے تو وہ بھی کام کرے سارا بوجھ مرد کیوں اٹھائے۔

یو ٹیوب چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں شہریار منور نے معاشرے میں مرد کے کردار اور اس کے نفسیاتی استحصال پر بات کی۔

شہریار مُنور کا کہنا تھا کہ بچپن سے مردوں کو مرد بننے اور درد سہنے کی ٹرینگ دی جاتی ہے۔ خواتین کو کُھلی آزادی دی جاتی ہے کہ وہ اپنے غم کا اظہار کریں جبکہ اگر مرد جذباتی ہوجائے تو اُس کی مردانگی پر سوال اُٹھ جاتا ہے۔

شہریار منور کا کہنا تھا کہ عورت جذباتی اور اعصابی لحاظ سے مرد کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتی ہیں، عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر شوہر کا انتقال ہوجائے تو عورت اس صدمے کو جھیل لیتی ہے لیکن مرد اس صدمے کو برداشت نہیں کرپاتا، وہ جلد مر جاتا ہے کیونکہ وہ اس سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس صدمے سے کیسے باہر نکلا جائے۔ مرد ظاہری طور پر تو بڑا بہادر اور تیس مار خان بنتا ہے لیکن اندر سے اتنا ہی کمزور ہوتا ہے۔

اداکار کا کہنا تھا کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ہم عورت کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں تو خواتین کو بھی کام کرنا ہوگا، سارا معاشی بوجھ مرد ہی کیوں اٹھائے، اگر خواتین کو فیصلے کرنے کا اختیار، رتبہ اور طاقت چاہیے تو وہ بھی بوجھ کو بانٹیں، نوکری کریں اور اپنا گھر چلائیں، اگر ایک مرد کام پر جاکر باپ بن سکتا ہے تو ایک عورت کام کرنے کے باوجود ماں بھی بن سکتی ہے۔

شہریار منور کا کہنا ہے کہ اگر کوئی عورت یہ کہے کہ میں کام پر جاتی ہو ں اس لئے بچوں کی دیکھ بھال نہیں کرسکتی، یہ بات تو مردوں کے لئے قابل قبول نہیں کہ وہ معاشی بوجھ تو اٹھائے لیکن بچوں کی تربیت پر توجہ نہ دے، اس طرح اولاد بگڑ جاتی ہے۔

شہریار منور نے مزید کہا کہ میں نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ جو خواتین کام کرتی ہیں ان کے شوہروں کو عجیب نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ میں نے کئی ایسی خواتین دیکھی ہیں جو زیادہ کمائی پر اپنے شوہر کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتی ہیں۔

Tabool ads will show in this div