بھارت میں مسلمان لڑکےپر ہندو انتہا پسندوں کا بدترین تشدد

ویڈیو ٹویٹر پر وائرل

بھارتی ریاست اترپردیش کے بلند شہر میں نفرت انگیزجرائم کے واقعے میں 17سالہ مسلمان نوجوان ساحل صدیقی کو بجرنگ دل کے کارکنوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ہندو انتہاپسندوں کے ہجوم کی طرف سے مسلمان لڑکے کو زدوکوب کرنے کی ویڈیو ٹویٹر پر وائرل ہوئی۔

ساحل کے والد رؤف نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو بجرنگ دل کے کارکنوں نے جھوٹے دعوے پر نشانہ بنایا۔ یہ سب کچھ اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے ان کے گھر آکر ساحل کو گلاوٹھی پولیس اسٹیشن آنے کے لئے کہا کیونکہ ان کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کیا جارہا تھا۔

رؤف نے کہا کہ جب وہ ساحل کے ساتھ پولیس اسٹیشن جا رہا تھا تو بجرنگ دل کے کارکنوں نے ان کو راستے میں روک کر کہا کہ وہ پولیس اسٹیشن کے باہر معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں۔

ساحل کے والد کےمطابق جب ان کارکنوں سے معاملے سے متعلق استفسار کیا گیا تو انھوں نے الزام لگایا کہ ساحل نے ایک لڑکی کی ویڈیو بنائی ہے اور اس کے گھر والوں نے اس کے خلاف شکایت کی ہے۔

ساحل کے چچا سلمان نے میڈیا کو بتایا کہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے ہمیں گھیرتے ہوئے کہا کہ آپ معاملے کو چھپانے کے لیے کچھ رقم دیں لیکن ہم نے یہ کہتے ہوئے ادائیگی کرنے سے انکار کردیا کہ جب ہم نے کوئی جرم نہیں کیا تو ہم کیوں رقم دیں۔

سلمان نے مزید بتایا کہ اس دوران وہاں موجود لڑکے آدیش چوہان نے ساحل کو مارنا شروع کردیا،ان کی تعداد 20 سے زیادہ تھی اور وہ یک دم حملہ آور ہوگئے۔ ساحل پر بیمانہ تشدد کے دوران اس کی پسلیوں میں گہری چوٹ آئی اور اس کی ناک کی ہڈی میں فریکچر ہوگیا۔

indian police

Tabool ads will show in this div