میکسیکو سٹی میں 4 مسلمانوں کا قتل، مشتبہ شخص گرفتار

پولیس کو مشتبہ گاڑی کی تلاش تھی

ایلبکرکی میں مسلمانوں کے سلسلہ وار قتل کیس میں مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

امریکی شہر ایلبکرکی کے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے منگل 9 اگست کو ٹوئٹ کے ذریعے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس نومبر سے شروع ہونے والے مسلمانوں کے قتل کی وارداتوں کے سلسلے میں مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس چیف ہیرلڈ میڈینا نے ٹوئٹر پر لکھا کہ مشتبہ شخص وہی مشکوک گاڑی چلا رہا تھا جس کے بارے میں باور کیا جاتا ہےکہ اس کا تعلق ایلبکرکی میں ایک مسلمان شخص کے قتل سے ہے۔

میڈینا کا کہنا ہے کہ پولیس اس بارے میں مزید تفصیلات جلد ہی فراہم کرے گی۔ قبل ازیں ریاست نیومیکسیکو کے شہر ایلبکرکی میں چار مسلمانوں کی سلسلہ وار ہلاکت کے بعد کمیونٹی میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ مقامی کمیونٹی رہنماوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ ہلاکتیں افغان مہاجرین اور ان کی مدد کرنے والوں کے خلاف ہیٹ کرائم یعنی نفرت پر مبنی مجرمانہ کارروائی ہو سکتی ہے ۔ دوسری جانب امریکا کے صدر جو بائیڈن نے ان ہلاکتوں ہر غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ مسلم کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہے۔

ریاست نیومیکسیکو کے شہر ایلبکرکی میں واقع نیو میکسیکو اسلامک سینٹر کے پبلک افئیرز کے ڈائریکٹر طاہر گابا نے خدشہ ظاہر کیا کہ قتل کی یہ وارداتیں ایک گروپ کے خلاف نفرت پر مبنی ٹارگٹ کلنگ ہو سکتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان سب واقعات کا تعلق افغان ریفیوجی کمیونٹی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایلبکرکی کی یہ تاریخ رہی ہے کہ نائن الیون کے بعد بھی جب بہت سے افغان مہاجرین امریکا آئے تو ان میں سے بہت سے یہاں البیکرکی آ کر بسے تھے۔

واضح رہے کہ ایلبکرکی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک وہ قتل کی وارداتوں کے سلسلے میں کسی مشکوک شخص کو پکڑ کر مقصد نہیں جان لیتے، تب تک یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ جرائم نفرت پر مبنی ہیں یا نہیں۔ نیو میکسیکو میں پولیس اور وفاقی ایجنسیاں یکے بعد دیگرے ہونے والی ان ہلاکتوں کی تحقیقات کر رہی تھیں، جن میں سے تازہ ترین واقعہ جمعہ کی شام کو پیش آیا۔

قبل ازیں امریکی صدر جو بائیڈن نے اتوار کے روز نیو میکسیکو کے ایلبکرکی میں ایک چوتھے مسلمان شخص کی ہلاکت کے بعد مسلم کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، جسے حکام ٹارگٹ حملوں کے ایک سلسلے کے طو ر پر بیان کر رہے ہیں۔ بائیڈن نے چوتھی موت کی خبر کے بعد ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ ان ہلاکتوں سے غم و غصے میں ہیں۔

انہوں نےلکھا کہ میری دعائیں متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہیں، اور میری انتظامیہ مسلم کمیونٹی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ ان نفرت انگیز حملوں کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کی مکمل تحقیقات کی جارہی ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ ریاست کے سب سے بڑے شہر میں گزشتہ نو ماہ میں ہلاک کئے گئے دیگر تین مسلمان مردوں کوبظاہر ان کے مذہب اور نسل کی وجہ سےہدف بنایا گیا تھا۔

قتل ہونے والے افراد میں سے دو اسی مسجد کے ارکان تھے، جنہیں جولائی کے آخر اور اگست کے اوائل میں ایلبکرکی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کا “قوی امکان” ہے کہ ان کی موت کا تعلق نومبر میں ایک افغان تارک وطن کے قتل سے ہو۔ نیو میکسیکو اسٹیٹ پولیس ، ایف بی آئی اور یو ایس مارشل سروس تحقیقات میں مدد کرنے والی ایجنسیوں میں شامل ہیں۔ اسی دوران تحقیقات کرنے والے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی کار کی تلاش میں ہیں جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس کا تعلق ان وارداتوں سے ہو سکتا ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ چاروں افراد کے قتل میں ایک ہی گاڑی کے استعمال ہونے کا شبہ ہے اور یہ گاڑی گہرے سرمئی (گرے) رنگ کی جیٹا معلوم ہوتی ہے۔ حکام نے اس امید پرگاڑی کی تصاویر جاری کی ہیں کہ عوام گاڑی کی نشاندہی میں مدد کر سکتے ہیں۔ تفتیش کاروں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تصاویر کہاں لی گئی ہیں یا انہیں قتل کے واقعات میں اس کار کے استعمال ہونے کا شبہ کیوں ہوا۔

ایلبکرکی کے میئر ٹم کیلر نے اتوار کو کہا کہ ہمارے پاس بہت، بہت مضبوط ربط ہے۔“ہم اس کار میں دلچسپی رکھتے ہیں … ہمیں اس گاڑی کو تلاش کرنا ہے ۔

Tabool ads will show in this div