ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر پر ایف بی آئی کا چھاپا

سرچ وارنٹ صدارتی دستاویز سے متعلق تھا

ایف بی آئی (FBI ) نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ( Donald Trump) کے گھر چھاپہ مارا جس کے دوران اہلکاروں نے رہائش گاہ کی تلاشی لی، ٹرمپ نے الزام لگایا کہ اہلکاروں نے ایک الماری کو توڑ ڈالا۔

امریکی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق ایف بی آئی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فلوریڈا ( Florida ) کے پام بیچ میں واقع گھر پر 8 اگست بروز پیر کو چھاپہ مارا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چھاپہ سرکاری کاغذات کے استعمال سے متعلق تحقیقات کے حوالے سے تھا، اس سے قبل کسی سابق امریکی صدر کے گھر ایسی کارروائی نہیں کی گئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایف بی آئی کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے جو ریاست کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے در پے ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آئی اہلکاروں نے چھاپہ مار کارروائی صبح کے اوقات میں کی، وہ اپنے ساتھ سیف توڑنے والا آلہ سیف کریکر بھی لائے تھے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے متعدد ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ سابق صدر کے گھر کی تلاشی خفیہ دستاویزات ساتھ لے جانے سے متعلق تھی۔

چھاپے کے وقت سابق امریکی صدر نیویارک میں ٹرمپ ٹاور میں موجود تھے۔ محکمہ انصاف نے ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر کی تلاشی پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔ ایف بی آئی نے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر اے ورے کو ڈونلڈ ٹرمپ نے تعینات کیا تھا۔

ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا انہوں نے چھاپے کے بارے میں اپنے والد کو اطلاع دی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرچ وارنٹ صدارتی دستاویز سے متعلق تھا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 میں امریکی صدارت کیلئے انتخابی مہم چلائی تھی اور حکومتی پیغامات کے لیے ذاتی ای میل اکاؤنٹ استعمال کرنے پر اُس وقت کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

صورت حال سے واقف ایک شخص نے بتایا کہ تلاشی اس لیے لی گئی کہ آیا سابق صدر کے گھر میں کوئی سرکاری ریکارڈ تو باقی نہیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیشنل آرکائیوز کو کچھ ریکارڈ واپس کرنے تصدیق کی تھی۔ انہوں نے اس کو معمول کا عمل قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ آرکائیوز کو ان سے کچھ نہیں ملا تھا۔

Tabool ads will show in this div