نیو میکسیکو میں 4 مسلمانوں کا قتل: پاکستانی سفیر کا لواحقین سے رابطہ

تاخیر سے رابطے پر لواحقین کا شکوہ

امریکا ( Albuquerque) میں پاکستانیوں سمیت مسلمانوں کے قتل کے واقعات کے بعد پاکستانی سفیر مسعود خان نے مقتول کے لواحقین سے رابطہ کیا ہے۔

نمائندہ سما کے مطابق مقتول افضال حسین کے بھائی نے حکومت کی جانب سے تاخیر سے رابطہ کرنے پر شکوہ کیا۔ پاکستانی سفیر مسعود خان کا کہنا تھا کہ تفصیلات اور شناخت کے عمل میں مصروف تھے، تاہم حکومت پاکستان ہر قسم کا تعاون کریں گے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی مولانا طاہراشرفی نے بھی پاکستانیوں سمیت چارافراد کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ چار مسلمانوں کے قتل پر امریکا کے صدر جو بائیڈن نے قتل کے ان واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا۔ ٹویٹر پر ان کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز حملوں کی امریکا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

ریاست نیو میکسیکو کے شہر البیکرکی میں چار مسلمانوں کی سلسلہ وار ہلاکت کے بعد کمیونٹی میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور مقامی کمیونٹی رہنماوں نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ ہلاکتیں افغان مہاجرین اور ان کی مدد کرنے والوں کے خلاف ہیٹ کرائم یعنی نفرت پر مبنی مجرمانہ کارروائی ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ البیکرکی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک وہ قتل کی وارداتوں کے سلسلے میں کسی مشکوک شخص کو پکڑ کر مقصد نہیں جان لیتے، تب تک یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ جرائم نفرت پر مبنی ہیں یا نہیں۔

قتل کے واقعات کے پیچھے فرقہ واریت کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نیو میکسیکو اسلامک سینٹر ریاست کی سب سے بڑی مسجد ہے جہاں ہر رنگ، نسل اور فرقے سے لوگ عبادت کرنے آتے ہیں۔ بقول ان کے ‘‘افضل حسین سنی تھے، اور یہاں مستقل آتے تھے۔ یہاں لوگوں کی اکثریت سنی ہے لیکن کچھ شیعہ بھی یہاں آتے ہیں۔’’

البیکرکی میں گزشتہ برس نومبر میں پہلے قتل کے موقع پر ان سمیت سب نے اسے معمول کے پرتشدد واقعات کا سلسلہ سمجھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 26 جولائی کو آفتاب حسین کے قتل پر بھی ان لوگوں کا کسی اور جانب خیال نہیں گیا۔ لیکن جب چار روز بعد محمد افضل کا قتل ہوا، جو بقول ان کے کمیونٹی میں بہت معروف اور مقامی سیاست میں ابھرتے ہوئے ستارے کے طور پر دیکھے جاتے تھے، تو انہوں نے اور مسجد کے صدر احمد اسد نے حکام سے رابطہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جمعے کے روز دونوں جنازوں کے بعد انہیں لگا کہ اب شاید دوبارہ ایسا واقعہ نہ ہو۔ نیو میکسیکو میں پولیس اور وفاقی ایجنسیاں یکے بعد دیگرے ہونے والی ان ہلاکتوں کی تحقیقات کر رہی تھیں، جن میں سے تازہ ترین واقعہ جمعہ کی شام کو پیش آیا۔

نیو میکسیکو اسٹیٹ پولیس ، ایف بی آئی اور یو ایس مارشل سروس تحقیقات میں مدد کرنے والی ایجنسیوں میں شامل ہیں۔ اسی دوران تحقیقات کرنے والے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی کار کی تلاش میں ہیں جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس کا تعلق ان وارداتوں سے ہو سکتا ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ چاروں افراد کے قتل میں ایک ہی گاڑی کے استعمال ہونے کا شبہ ہے ۔ اور یہ گاڑی گہرے سرمئی (گرے) رنگ کی جیٹا معلوم ہوتی ہے۔ حکام نے اس امید پرگاڑی کی تصاویر جاری کی ہیں کہ عوام گاڑی کی نشاندہی میں مدد کر سکتے ہیں۔ تفتیش کاروں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تصاویر کہاں لی گئی ہیں یا انہیں قتل کے واقعات میں اس کار کے استعمال ہونے کا شبہ کیوں ہوا۔

البیکرکی کے میئر ٹم کیلر نے اتوار کو کہا کہ “ہمارے پاس بہت، بہت مضبوط ربط ہے۔“ہم اس کار میں دلچسپی رکھتے ہیں … ہمیں اس گاڑی کو تلاش کرنا ہے ۔”

اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ ستائیس سالہ محمد افضال کو جو نو ایسپانولا شہر میں پلاننگ ڈائریکٹر تھے ، اور پاکستان سے امریکہ آئے تھے ، پیر کے روز البیکرکی میں ان کے اپارٹمنٹ کمپلیکس کے سامنے گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا، جب کہ اکتالیس سالہ آفتاب حسین 26 جولائی کو البیکرکی کے انٹر نیشنل ڈسٹرکٹ کے قریب مردہ حالت میں پائے گئے، ان کی موت گولی لگنے سے ہوئی تھی ۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں امکانی طور پر گزشتہ سال سات نومبر کو ایک حلال سپر مارکیٹ اور کیفے کے ایک پارکنگ لاٹ میں 62 سالہ محمد احمدی کو گولی لگنے کے واقعے سے منسلک ہیں۔

Tabool ads will show in this div