لیگی رہنما نذیر چوہان اورپی ٹی آئی کے شبیر گجر میں صلح ہوگئی

عدالت کو بیان دے دیا کہ نذیرچوہان کی ضمانت پراعتراض نہیں، شبیر گجر

مسلم لیگ ن کے رہنما نذیر چوہان اور تحریک انصاف کے شبیر گجر کے درمیان صلح ہوگئی، دونوں نے ایک دوسرے کے گلے لگ کر گلے شکوے دور کردیئے۔

اقدام قتل کے الزام میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے رہنما نذیر چوہان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر لاہور ماڈل ٹاؤن کچہری میں لایا گیا، مدعی مقدمہ پی ٹی آئی کے رہنما شبیر گجر بھی عدالت پہنچے۔

احاطہ عدالت میں نذیر چوہان اور شبیر گجر آپس میں گلے ملے اور دونوں میں صلح ہوگئی۔

تحریک انصاف کے رہنما شبیر گجر کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں پاکستان کے لیے سیاسی دشمنیاں ختم ہوں ، اللہ کی رضا کے لیے نذیر چوہان کو معاف کر دیا۔

شبیر گجر نے عدالت میں پیش ہوکر بھی ڈیوٹی مجسٹریٹ محمد آصف مصطفی کے روبرو بیان دیا کہ ہمیں نذیرچوہان کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں۔

عدالت نے نذیر چوہان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی اور انہیں 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

کیس کا پس منظر

یکم اگست کو پوليس نے نذیر چوہان کو پنجاب ضمنی الیکشن میں انتخابی مہم کے دوران فريقين کے مابین ہونے والے جھگڑا کیس ميں حراست ميں ليا تھا۔

لیگی رہنما نذیر چوہان پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خالد گجر اور شبیر گجر پر حملے کا الزام ہے، واقعے میں خالد گجر کا بیٹا زخمی ہوا تھا۔

نذیر چوہان حالیہ ضمنی الیکشن مین مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر پی پی 167 سے امیدوار تھے تاہم اس حلقہ سے پی ٹی آئی کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی ، انتخابی مہم کے دوران نذیر چوہان اور پی ٹی آئی کے امیدوار خالد گجر نے ایک دوسرے پر حملے کے الزامات عائد کئے تھے۔

2 اگست کو پولیس نے نذیر چوہان اور دیگر ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا، اور نذیر چوہان سمیت دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی، پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزمان کے پاس بھاری مقدار میں اسلحہ ہے، جو ریکور کرنا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء کے وکیل نے کہا کہ نذیر چوہان پر جوہر ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج ہے، یہ واقعہ الیکشن کے دوران پیش آیا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے تفتیش کی، انہوں نے ہمیں کلین چٹ دی، ایس ایس پی کے مطابق مقدمے میں گرفتاری درکار نہیں تھی، نذیر چوہان کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے نذیر چوہان کو بدنیتی کی بنیاد پر گرفتار کیا، مقدمے کو عدم شوائد کی بنیاد پر خارج کیا جائے۔

عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے نذیر چوہان نے کہا کہ میری ادویات مجھے فراہم نہیں کی جارہیں، جس پر خاتون جج نے جواب دیا کہ آپ فکر نہ کریں میں دیکھتی ہوں۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ قانون میں رہ کر کام کریں، کوئی غیر قانونی کام نہیں ہونا چاہئے۔

انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کی جج نے نذیر چوہان سمیت دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

3 اگست کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما نذیر چوہان سمیت 8 افراد نے ضمانت کے لیے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کیا، نذیر چوہان نے اپنے وکیل سردار اکبر ڈوگر کی وساطت سے درخواست ضمانت بعدازگرفتاری دائر کی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ تھانہ چوہنگ پولیس نے جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کےلیے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں۔

یہ بھی بتایا گیا کہ عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا بھی مسترد کردی تھی۔عدالت سے استدعا کی گئی کہ بعد ازگرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کی جائے۔

عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور سماعت ملتوی کردی۔

Tabool ads will show in this div