سیلاب متاثرہ علاقوں میں متاثرین تاحال امداد کے منتظر

بلوچستان میں اموات کی تعداد 176 تک جا پہنچی

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) ( NDMA ) کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب ( Flood ) سے ملک بھر میں اموات کی تعداد 552 جب کہ زخمیوں کی تعداد 628 ہوگئی ہے۔

خضدار

خضدار میں حالیہ سیلاب سے زراعت کا شعبہ سب سے متاثر ہوا ہے۔ باغبانہ باجوئی میں ہزاروں ایکڑ رقبہ پرمشتمل تیار فصلیں ریلوں کا شکار ہوگئیں۔ جس سے دھنیا، ٹماٹر، کپاس و دیگر فصلیں بری طرح متاثر ہوئیں۔

بلوچستان

کوئٹہ ( Balochistan ) کے علاقے سر کلی میں سیلاب متاثرین دو ہفتوں بعد بھی امداد سے محروم ہيں۔ متاثرین نے خود ہی تباہ شدہ گھروں کی تعمیر شروع کردی۔ پی ڈی ایم اے کی تازہ رپورٹ کے مطابق صوبہ بلوچستان میں بارش اور سیلاب سے مزید 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خضدار میں 4 مرد اور خاتون اور قلات میں ایک مرد جاں بحق ہونے کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 176ہوگئی۔

جاں بحق ہونے والوں میں کل 77مرد،44خواتین اور55 بچے شامل ہیں، حالیہ بارشوں سے75 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سیلابی ریلوں سے 4 ہزار 742 مکان منہدم اور 13 ہزار385 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس دوران 18 ہزار87 مکانات کو نقصان بھی پہنچا۔

قلعہ سیف اللہ کی بستی مارپال کے شہری ایک ہفتے سے علاقے میں محصور ہیں۔ بارشوں سے سب کچھ برباد ہوگیا، راستے بند ہونے کے باعث متاثرین تک نہ کھانا پہنچا اورنہ پانی، جانور بھی پیاس سے نڈھال ہیں۔ اسی طرح نصیر آباد، جھل مگسی اور ڈیرا مراد جمالی سمیت متعدد سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین امداد کے منتظر ہیں۔

مستونگ میں متاثرین نے امداد نہ ملنے پر احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کردی، بارشوں سے توبہ اچکزئی کی بیشتر سڑکیں بھی برباد ہوگئیں۔

راجن پور

راجن پور میں دریائے سندھ میں بے نظیر برج کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے دریا کے ساتھ موجود کچے کی آبادیوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ رود کوہی میں سیلاب سے متاثر ہونے والے سیکڑوں خاندان بے یارو مدد گار ہيں۔ انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی کوئی فلڈ وارننگ جاری نہیں کی گئی۔

حب ندی پل

بلوچستان اور سندھ میں ہونے والی شدید بارشوں کے باعث دیگر پلوں کی طرح حب ندی پل کو بھی نقصان پہنچا تھا جس کی بحال کا کام تاحا ل شروع نہیں ہو سکا ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے ٹوٹنے والے حب ندی پل کو دو ہفتے گزر گئے لیکن انتظامیہ کی جانب سے پل تاحال اسے بحال نہ کیا جا سکا جس سے حب سے کراچی جانے اور آنے والے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پل کا مرمتی کام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں 10 کلومیٹر کا اضافی راستہ طے کر کے حب بائی پاس سے گزرنا پڑتا ہے، حکومت سے مطالبہ ہے کہ حب ندی پل کو جلد از جلد بحال کیا جائے تاکہ ہم اس اذیت سے بچ سکیں۔

این ڈی ایم اے

این ڈی ایم کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث ملک بھر میں 49778 مکانات کو نقصان پہنچا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے، جب کہ وزیر اعظم نے ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کیلئے فی کس 10 لاکھ کے امدادی چیک کی ترسیل جاری ہے ۔ این ڈی ایم اے نے لسبیلہ کیلئے مزید امدادی سامان روانہ کردیا ۔ امدادی سامان میں خیمے، ترپالیں اور جنریٹرز شامل ہیں ۔ فلاحی تنظیموں کی جانب سے لسبیلہ اور کوئٹہ کے متاثرین کو راشن کی فراہمی جاری ہے۔

دریاؤں کی صورت حال کے مطابق تمام دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ سٹرکوں اور پلوں کی صورت حال کے مطابق اچار نالہ کے مقام پر شاہراہ قراقرم چھوٹی اور درمیانی ٹریفک کیلئے بحال اچار نالہ پر اسٹیل کے پل کی تعمیر کا کام جاری ہے باقی تمام قومی شاہراہیں اور موٹر ویز فعال ہیں۔

وزیراعظم پاکستان

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی اور وزیراعظم نے وزراتِ خزانہ کو فوری طور پر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو 5 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس سلسلے میں وزیر اعظم نے کہا کہ جس طرح اہل پاکستان نے 2005 کے زلزلے اور 2010 کے ملک کے سب سے بڑے سیلاب کے وقت متاثرین کی دل کھول کر مدد کر کے پوری دنیا میں ایک مثال قائم کی تھی، آج بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ مشکلات میں گھرے ان پاکستانیوں کو دوبارہ آباد کرنے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں، سیلاب متاثرہ بھائیوں بہنوں اور بچوں کی مدد انصار مدینہ والے جذبے سے کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وفاق نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، صوبائی حکومتوں سے بھی گزارش کی ہے کہ متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیں تاکہ امدادی کاموں کو مزید تیز کیا جاسکے۔

Tabool ads will show in this div