غزہ پر صیہونی فوج کے فضائی حملے، شہید فلسطینیوں کی تعداد32 ہوگئی

شہید ہونے والوں میں 6 بچے بھی شامل

اسرائیلی فوج کی غزہ ( Gaza ) میں دوسرے روز بھی دہشت گردی جاری ہے، شمالی علاقے رفا میں اسرائیل ( Israel ) کی جانب سے بموں کی بارش کی گئی، جہاں شہداء کی تعداد بتیس ہوگئی، شہید ہونے والوں میں 6 بچے بھی شامل ہیں، جب کہ حملوں میں 200 سے زائد فلسطینی زخمی بھی ہوئے۔ کئی خواتین اور بچے اب عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ راستے بند ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسرائیل نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے ایک ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق غزہ پر جمعے کو اسرائیل کی فضائی کارروائیوں میں اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 32 تک پہنچ گئی ہے، اسرائیل کے حملوں کے دوران غزہ سٹی ( Palestine ) میں عمارت میں دھواں بھی پھیل گیا۔

حماس ( Hamas ) کے زیر انتظام علاقے میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک شہید افراد میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق 204 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کا انکار

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے حملوں کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ عسکریت پسند تنظیم اسلامک جہاد کی جانب سے شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ پر داغہ گیا راکٹ متعدد بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ جبالیہ میں کتنے بچے شہید ہوئے ہیں۔ اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے اسپتال میں چھ لاشیں دیکھی جن میں تین بچے بھی شامل تھے۔

اسرائیل کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اسلامک جہاد کے خلاف اس کی فضائی اور زمینی حملے ایک ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔ مصر کے صدر عبدل فتح السیسی نے کہا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے وہ فلسطینی اور اسرائیلی حکام سے مسلسل بات چیت کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر اسلامی جہاد کے خلاف آپریشن کیا جو اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

24 گھنٹے انتہائی اہم قرار

غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹے اہم اور مشکل ترین ہوں گے۔ وزارت نے خبردار کیا کہ بجلی کی کمی کے نتیجے میں 72 گھنٹوں کے اندر اہم سروسز معطل ہونے کا خدشہ ہے۔ غزہ کی رہائشی دنیا اسماعیل نے اے ایف پی کو بتایا کہ فلسطینی شہر اب رقم اور ادویات پر مشتمل ضروری بیگ تیار رکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی خوف، پریشانی اور اس احساس واپس کو لے آئی ہے کہ ہم تنہا ہیں۔

قبل ازیں اسرائیل کی میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی سروس نے کہا ہے کہ دو شدید زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جب کہ دیگر 13 کو جان بچانے کے دوران معمولی چوٹیں آئیں۔ ہفتے کی شام کو عام شہریوں نے اسرائیل کی جانب حملوں سے بچنے کے لیے پناہ گاہوں کا رخ کیا۔ غزہ میں مصر کی سرحد کے ساتھ رفاہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچے ملبے تلے پھنس گئے۔

اسلامک جہاد

امدادی کارکنوں نے اس عمارت کے ملبے کو ہٹایا ہے جہاں سے ہفتے کو اسرائیل نے مبینہ طور پر اسلامک جہاد کے کمانڈر خالد منصور کو نشانہ بنایا تھا۔ اسلامک جہاد کے کمانڈر خالد منصور کی ہلاکت کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی تاہم اسرائیل کے فوجی آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اودد بیسیوک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں اسلامک جہاد کے عسکری شاخ کی اعلٰی قیادت کو غیر فعال کر دیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسلامک جہاد کی پوسٹوں سے راکٹ داغنے کی تیاری کرنے والے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ غزہ میں ہونے والے بم دھماکوں میں پانچ مکانات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے غزہ شہر لرز اٹھا اور شہر بھر میں دھوئیں اور گرد کے بادل چھا گئے، کئی مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔

فلسطین نے جوابی کارروائی کے دوران سرحد پار سے کم ازکم 160 راکٹ فائر کیے، جس کے بعد فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے اور عوام کو تل ابیب اور بیت المقدس کے درمیان وسطی اسرائیلی شہر مودین کی محفوظ پناہ گاہوں میں بھیج دیا گیا۔ اسلامک جہاد کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا کہ اسرائیل کے بن گورین ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا لیکن راکٹ تقریباً 20 کلومیٹر دور مودیین کے قریب گرا۔

اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد غزہ میں معمول کی زندگی متاثر ہے۔ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سرحدی گزرگاہوں کو بند کرنے کے بعد ایندھن کی کمی کی وجہ سے واحد پاور اسٹیشن بند ہو چکا ہے۔

پانچ سالہ علا قدوم کی شہادت

اسرائیل کے پہلے حملے میں شہید ہونے والی پانچ سالہ علا قدوم کے بالوں میں خوبصورت پھول نما پونی بندھی ہوئی تھی اور ماتھے پر ایک زخم تھا جب اس کی لاش کو اس کے والد خود تدفین کے لیے لے کر گئے۔

پاکستان کی مذمت

دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل روایتی جارحیت کی تازہ ترین لہر بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی مکمل خلاف ورزی، دہائیوں سے بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف مظالم، غیر قانونی اقدامات اور طاقت کا اندھا دھند استعمال کا تسلسل ہے۔

دفترخارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر زور دے کہ وہ طاقت کے بے دریغ استعمال اور فلسطینی عوام کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کرے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جارحیت کو فوری طور پر روکنا ناگزیر ہے۔

دفترخارجہ نے کہا کہ ہم اپنا مؤقف دہراتے ہیں کہ اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی قراردادوں کے مطابق ہم 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ ایک قابل عمل، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے لیے اپنے مطالبے کی تجدید کرتے ہیں اور اس کا دارالحکومت القدس الشریف ہی ہے جو فلسطینی مسئلے کا واحد، جامع اور دیرپا حل ہے۔

وزیراعظم پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف نے علا قدوم کو نشانہ بنانے کو اسرائیلی دہشت گردی قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے اسلامی جہاد کے خلاف حملہ کیا جس میں اس کے کمانڈر کو مار دیا گیا جن پر اسرائیل کے اندر ہوئے حالیہ حملوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ اسلامی جہاد نے کہا تھا کہ اسرائیلی بمباری اعلان جنگ کے مترادف ہے اور چند گھنٹے بعد 100 سے زیادہ راکٹوں کے حملے کے ذریعے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کی۔

اسرائیل کے اندر ہلاکتوں کی فوری طور پر کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی کیونکہ ملک کے تجارتی دارالحکومت تل ابیب کے حکام نے کہا کہ وہ شہر میں بم سے بچاؤ کی پناہ گاہیں کھول رہے ہیں۔

Tabool ads will show in this div