ہیروشیما پر امریکی ایٹمی حملے کو 77 برس مکمل

یادگاری تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی شرکت

جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکی ایٹمی حملے کو 77 برس مکمل ہوگئے۔

امریکا نے 6 اگست 1945ء کو پہلا ایٹم بم ہیروشیما پر گرایا تھا جس سے پورا شہر تباہ ہوگیا تھا، 1945ء کے اواخر تک شہر کی تقریباً 40 فیصد آبادی لگ بھگ ایک لاکھ 40 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

امریکا نے ہیروشیما پر حملے کے تین دن بعد 9 اگست کو جاپان کے جنوبی شہر ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا جس میں تقریباً 74 ہزار افراد لقمہ اجل بنے، اس کے بعد جاپان نے 15 اگست 1945ء کو اتحادی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ ہوگیا۔

ایٹمی حملوں کی 77 ویں برسی پر ہیروشیما میموریل پارک میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش اور جاپانی وزیراعظم فومیو کیشیدا (Fumio Kishida) نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر انتونیو گوتریش نے یوکرین، مشرق وسطیٰ اور جزیرہ نما کوریا میں بحرانوں سے پیدا ہونے والے خطرے سے خبردار کیا اور کہا دنیا ایک بھری ہوئی بندوق کے ساتھ کھیل رہی ہے۔

قبل ازیں آج ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی برسی کے موقع پر مرنے والوں کے لواحقین نے صبح سویرے بم گرائے جانے کے وقت 8:15 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

اس موقع پر روسی سفیر بھی تقریب میں مدعو نہ ہونے کے باوجود یادگار پر پہنچے اور پھولوں کا گلدستہ رکھا تاہم ہیروشیما کے میئر کازومی ماتسوئی نے اپنے امن اعلامیے میں روسی صدر پیوٹن پر الزام لگایا کہ وہ اپنے ہی لوگوں کو جنگ کے آلات کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

ہیروشیما کے میئر نے کہا روسی صدر پیوٹن کسی دوسرے ملک میں معصوم شہریوں کی زندگی اور روزگار کو نقصان پہنچا رہے ہیں، یوکرین کے خلاف روس کی جنگ نیوکلیئر ڈیٹرنس کے لیے مدد فراہم کر رہی ہے، انہوں دنیا پر زور دیا کہ وہ 77 سال قبل ان کے شہر کو تباہ کرنے والی غلطیوں کو نہ دہرائیں۔

japan

hiroshima

nuclear attack

77th Anniversary

Tabool ads will show in this div