کامن ویلتھ گیمز،ارشد ندیم کوفائنل سےقبل انجری کا سامنا

ایونٹ میں کوچ کے بغیر آئے ہیں

کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے جیولن ایونٹ میں گولڈ میڈل کی امید ارشد ندیم کو بڑے مقابلے سے قبل گھٹنے اور کہنی کی انجری کا سامنا ہے۔

سماء سے بات کرتے ہوئے ارشد ندیم نے کہا کہ وہ اس ایونٹ میں کوچ کے بغیر آئے ہیں تاہم اپنی بھرپور کوشش کریں گے کہ ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتا جائے۔

ارشد ندیم کا کہنا تھا کہ بڑے مقابلوں کے لیے اچھی سہولیات دی جائیں اور کوچ کو ساتھ بھیجا جائے کیوں کہ اس سے بہت حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

پچھلے ماہ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں جیولن تھرو کے فائنل مقابلے میں میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ارشد ندیم ( Arshad Nadeem ) پانچویں پوزیشن حاصل کرسکے تھے۔ ارشد ندیم نے 86.16 میٹر کی تھرو کی، تاہم یہ تھرو ارشد ندیم کی اس سیزن میں بہترین تھرو بھی تھی۔

اس سے قبل ارشد ندیم نے گروپ بی کوالیفائنگ راونڈ میں 81.71 میٹر تھرو کی جو تیسری باری میں سب سے بہترین تھی۔

پچھلے برس ٹوکیو اولمپکس میں جیولین تھرو ایونٹ میں گولڈ ميڈل کيلئے12 ايتھليٹس ميں مقابلہ تھا۔ اس ایونٹ میں ارشد نديم پاکستان کے ميڈل کی واحد اميد تھے۔

انھوں نے پہلی کوشش میں 82.40 میٹر تک جیولین تھرو کی۔ دوسری کوشش میں ارشد کی جیولین مطلوبہ لائن سے آگے نہ جاسکی اور فاؤل ہوگیا۔ارشد ندیم نے تیسری کوشش میں 84.62 میٹر تک جیولین تھرو کی۔ پہلے 12 ایتھلیٹس کےمقابلے میں ارشد چوتھے نمبر پر آئے اور انھوں نے ٹاپ8 کھلاڑیوں میں جگہ بنائی۔

جیولین تھرو ایونٹ میں ٹاپ 8 ایتھلیٹس کے مقابلے میں پہلی کوشش میں ارشد ندیم نے 82.91 میٹر تک جیولین تھرو کی۔ دوسری کوشش میں انھوں نے 81.98 میٹرتک جیولین تھرو کی۔ تیسری کوشش میں ارشد ندیم ڈس کوالی فائی ہوگئے تھے۔

athlete

Arshad Nadeem

JAVELIN THROW

commonwealth games 2022

Tabool ads will show in this div