سکھر بیراج سے ملنے والی لاشوں کی حقیقت

ایک بھی نامعلوم لاش لواحقین تک نہیں پہنچ سکی

سکھر بیراج سے نامعلوم لاشیں ملنے سے خوف پھیل گیا ہے۔ سول اسپتال سکھر اور روہڑی تعلقہ اسپتال میں 5 برس کے دوران درجنوں نامعلوم افراد کے ڈی این اے سیمپلز لیئے گئے لیکن ابھی تک پولیس ایک بھی نامعلوم لاش کے لواحقین تک رسائی حاصل کرسکی ہے۔

سکھر بیراج سے کئی برس سے نامعلوم لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ 5 برس میں 100 سے زائد نامعلوم لاشیں برآمد ہوئیں ۔

سول اسپتال سکھر اور روہڑی تعلقہ اسپتال کے مردہ خانے میں 100 سے زائد نامعلوم لاشوں کے ڈی این اے سمپلز رکھے ہوئے ہیں۔ اس دوران پولیس ایک بھی نامعلوم لاش کے لواحقین تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

سماء سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی سکھرجاوید جسکانی نے بتایا کہ ان میں سے کئی لاشیں سیلاب میں ڈوبے ہوئے افراد کی ہوتی ہیں۔ دریائے سندھ کنارے قبرستان سے بھی لاشیں سیلابی پانی میں بہہ کرآجاتی ہیں۔

اس کے علاوہ ہندو برادری اور کچے میں خواتین کو قتل کرنے کے بعد بھی لاشوں کو دریا برد کردیا جاتا ہے۔

سول اسپتال کے پولیس سرجن ڈاکٹر شاہد اقبال نے بتایا کہ پولیس کو کئی بار خط لکھ کر گمنام لاشوں سے متعلق کہا ہے تاہم ان لاشوں کا کوئی دعوے دار سامنے نہیں آتاہے۔

SUKKUR BARRAGE

Tabool ads will show in this div