اگست کا پہلا ہفتہ کاروباری لحاظ سے بہتر

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی جب کہ ڈالر اور سونے کی قیمت میں کمی

جولائی کے آخری ہفتے میں اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی ریکارڈ کی گئی تھی اور پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا تاہم اس کے بعد یکم یا 5اگست پر مشتمل رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں ریکوری آئی اور نہ صرف اسٹاک مارکیٹ سے مندی کے بادل چھٹ گئے بلکہ ڈالر کی قدر میں بھی غیر معمولی کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔

معاشی ماہرین کے مطابق ملک میں پنجاب اسمبلی کے حوالے سے سیاسی کشمکش اور معاشی لحاظ سے آئی ایم ایف کے معاملے میں غیر یقینی کیفیت کے باعث جولائی کے ہفتے میں کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں تاہم بعد ازاں سیاسی لحاظ سے بھی صورتحال بہتر ہوگئی ہے اور آئی ایم ایف کی جانب سے بھی وضاحت آگئی ہے کہ جلد پاکستان کو قرض پروگرام کی منظوری مل جائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی اور معاشی لحاظ سے صورتحال واضح ہونے کے سبب سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگیا ہے اور توقع ہے کہ محرم الحرام کی تعطیلات کے بعد بھی تجارتی سرگرمیاں بہتر رہیں گی۔

اسٹاک مارکیٹ میں ہفتے بھر تیزی

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں اگست کے پہلے ہفتے کے دوران زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔ بیشتر کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں جو جو اس سے پچھلے ہفتوں میں مندی کی وجہ سے گر کر نچلی سطح پر آگئیں تھیں سرمایہ کاروں نے ان سستے ہونے والے شیئرز کی یکم اگست کے بعد بھرپور خریداری کی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس 41ہزار اور42ہزار کی بڑی نفسیاتی حدیں بحال ہوگئیں۔

پاکستان اسٹاک ایکس ایکس چینج کی رپورٹ کے مطابق یکم یا 5اگست پر مشتمل ہفتے کے دوران مجموعی طور پر انڈیکس میں 1942پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اورکے ایس ای100انڈیکس 40150پوائنٹس سے بڑھ کر42096پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں بھی ایک ہفتے کے دوران 277ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔

اسٹاک ماہرین کا کہنا ہے کہ وقفے وقفے سے پرافٹ ٹیکنگ کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن عمومی طور پر آئی ایم ایف سے قسط وصولی اور دیگر دوست ممالک سے فنڈز ملنے پر تیزی دیکھی جائے گی۔

ایک ہفتے میں ڈالر کی قدر میں 27روپے کی کمی

مقامی کرنسی مارکیٹوں میں یکم اگست تا5اگست پر مشتمل ہفتے کے دوران ڈالرکی قدر میں غیر معمولی گراوٹ کا رجحان رہا اور انٹر بینک میں ڈالر 239.37روپے کی سطح سے گرتے ہوئے 224.04روپے کی سطح پر آگیا یعنی ایک ہفتے میں انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں کمی15روپے 33پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی اسی طرح اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر247روپے سے گرتے ہوئے220روپے کی سطح پر آگیا جس سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 27روپے کی کمی دیکھی گئی۔کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں بھی ڈالر کی قدر میں کمی آنے کا قومی امکان ہے۔

سونا ایک ہفتے میں 17ہزار روپے فی تولہ کم

اگست کے پہلے ہفتے کے دوران عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 21ڈالر کا اضافہ ہوا لیکن اس کے برعکس ڈالر کی قدر گرنے کے سبب مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی ہوئی۔سندھ صراف جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اگست کے پہلے کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ 59 ہزار 600 روپے سے کم ہوکر ایک لاکھ 41 ہزار 900 روپے کی سطح پر آگیا یعنی ایک ہفتے میں فی تولہ سونے کی قیمت 17 ہزار 700 روپے کی کمی ہوئی۔

Tabool ads will show in this div