کامن ویلتھ گیمز کےلیے عالمی معیار کی ٹریننگ سے زیادہ فائدہ ہوتا،زمان انور

ان مقابلوں کے لیے انٹرنیشنل ٹریننگ بہت ضروری ہوتی ہے

کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لینے والے پاکستانی پہلوان زمان انور نے بتایا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو بڑے ایونٹس کے لیے بین الاقوامی معیار کی ٹریننگ نہیں کروائی جاتی۔

کامن ویلتھ گیمز میں ریسلنگ کی 125 کلوگرام کیٹگری میں سلور میڈل حاصل کرنے والے پاکستانی پہلوان زمان انور نے سماء سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ فائنل مقابلہ کھیلا۔

زمان انور نے بتایا کہ فائنل میں حریف کھلاڑی اولمپئین تھا لیکن اچھا مقابلہ رہا تاہم گولڈ میڈل نہ جیتنے کا بہت دکھ ہے۔

زمان انور کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ کے لیے ٹریننگ ٹھیک تھی لیکن اگر انٹرنیشنل طرز کی ٹریننگ ملتی تو فائدہ ہوتا۔

پاکستانی پہلوان نے کہا کہ حریف کھلاڑی کوانٹرنیشنل ٹریننگ کروائی جاتی ہے جبکہ ہم گھروں سے اٹھ کرمقابلہ کرنے آجاتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان مقابلوں کے لیے انٹرنیشنل ٹریننگ بہت ضروری ہوتی ہے،بھارتی کھلاڑیوں نے قازقستان اورآسٹریلیا جاکر ٹریننگ کی تھی۔

commonwealth games 2022

ZAMAN ANWAR

Tabool ads will show in this div