ممنوعہ فنڈنگ کیس: ایف آئی اے نے 3 افراد کے بیانات قلمبند کرلیے

ایف آئی اے نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کا آغاز کردیا

ایف آئی اے نے تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔

ابتدائی تحقیقات میں الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں نامزد 4 ملازمین میں سے 3 نے ابتدائی بیانات قلمبند کروادیے۔ محمد رفیق، طاہر اقبال اور محمد ارشد نامی ملازمین الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں نامزد ہیں۔

ذرائع کے مطابق فارن فنڈنگ دیگر اکاؤنٹ کے علاوہ ملازمین کے سیلری اکاؤنٹ میں بھی آتی رہی، ملازمین میں عمران خان کا پرسنل سیکریٹری اور پارٹی کا جنرل منیجر فنانس بھی شامل ہیں۔

محمد ارشد نے ایف آئی حکام کو بتایا کہ فنڈنگ کون کہاں سے بھجواتا تھا جبکہ رقم کہاں کس مقصد کے لیے خرچ ہوئی مجھے علم نہیں ہے۔

محمد رفیق کا کہنا تھا کہ میرے دستخط شدہ بلینک چیک پی ٹی آئی فنانس ڈیپارٹمنٹ لے لیتا تھا جبکہ طاہر اقبال کا کہنا تھا کہ اکاؤنٹس میں آنے والی رقم کیش یا بذریعہ چیک پارٹی کے فنانس مینیجر کو دی جاتی تھی۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق تحریک انصاف کیخلاف 5 مختلف انکوائری ٹیمیں بنادی گئی ہیں اور یہ انکوائری کمیٹیاں لاہور، کراچی، پشاور، اسلام آباد اور کوئٹہ میں کام کریں گی۔

حکام ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی سے متعلقہ ریکارڈ مانگا جائے گا، جب کہ پانچوں ٹیموں کو ہیڈکوارٹر میں ایک بڑی کمیٹی سپروائز کرے گی۔

fia

PTI

provincial cabinet

Tabool ads will show in this div