عالمی ادارہ صحت کی سیلاب متاثرین کیلئے امداد وزیر صحت سندھ کے حوالے

ضروری اور جان بچانے والی ادویات، سرجیکل آئٹمز، خیمے اور کمبل بھی شامل

عالمی ادارہ صحت نے بارش متاثرین کیلئے امدادی سامان وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے حوالے کردیا، سامان میں ضروری اور جان بچانے والی ادویات، سرجیکل آئٹمز اور خیمے و کمبل شامل ہیں۔

پاکستان میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بارش سے متاثرہ افراد کیلئے امدادی سامان حکومت سندھ کے حوالے کردیا ہے۔

وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے حکومت سندھ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے وفد سے سامان وصول کیا، ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے حکومت سندھ اور عوام کی جانب سے ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا شکریہ ادا کیا۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق سامان میں ضروری اور جان بچانے والی ادویات، پانی صاف کرنے کی گولیاں، سرجیکل ماسک، ہینڈ سینیٹائزر، مچھر دانیاں، خیمے اور کمبل شامل ہیں، سندھ میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 64 ہزار 886 افراد بارشوں سے متاثر ہیں۔

محکمہ صحت سندھ نے 2 ہزار 606 میڈیکل کیمپس (فکسڈ اور موبائل) لگائے ہیں اور ان کیمپوں میں 68 ہزار 576 مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ترجمان وفاقی وزارت صحت کے مطابق بلوچستان کی سیلابی صورتحال کے پیش نظر وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کی ہدایت پر ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات شروع کردیئے ہیں.

وفاقی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی جانب سے ویکسین کی پہلی کھیپ بلوچستان پہنچ گئی، کھیپ میں ٹائیفاییڈ، خسرہ، اسہال اور کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین شامل ہیں۔

وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ عوام کو بیماریوں سے بچانے کیلئے صوبوں کے ساتھ ملکر مؤثر اقدامات کئے جارہے ہیں، وزارت صحت کے ادارے اس مشکل گھڑی میں بلوچستان کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، سیلاب سے متاثرین کو طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ایمر جنسی بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنارہے ہیں۔

اس سے قبل محکمہ صحت سندھ بھی متاثرین کیلئے ادویات اور دیگر ضروری سامان بلوچستان بھیج چکا ہے، جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس بھی قائم کئے گئے ہیں۔

سندھ

flood

WHO

HEALTH

Tabool ads will show in this div