مون سون کا نیا سسٹم برسنے کو تیار

کراچی میں کل شام بونداباندی اورہلکی بارش کاامکان ہے

محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، پنجاب ، سندھ اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ بارش کا یہ سلسلہ 13 اگست تک جاری رہے گا۔

اس دوران سندھ اور بلوچستان کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے، جب کہ بارشوں سے دریائے جہلم اور ملحقہ نالوں میں بہاؤ تیز ہوگا۔

میٹ آفس کی جانب سے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس کیلئے متعلقہ حکام کو الرٹ جاری کردیا۔

کراچی / سندھ

محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق مون سون سسٹم آج بروز جمعہ 5 اگست سے سندھ پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اس دوران ٹھٹھہ، بدین، سجاول، عمرکوٹ اور تھرپارکر میں تیز بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کراچی پر ایک نہیں دو سسٹم مزید بارشیں لارہے ہیں، ہفتے کو شروع ہونے والا نیا سلسلہ 9 اگست تک کہیں درمیانی کہیں تیز بارشوں کا باعث بنے گا، پھر 11سے 15اگست تک دوبارہ بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے 6 اگست سے لے کر 10 اگست تک لسبیلہ کے مختلف مقامات پر بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ سیلاب متاثرین کو ندی نالوں سے دور منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پنجاب

دوسری جانب پنجاب میں خطہ پوٹھوہار، گوجرانوالہ، لاہور، سا ہیوال، اوکا ڑہ، سیالکوٹ، نارووال میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ منڈی بہاؤالدین، میانوالی، سرگودھا، فیصل آباد، خوشاب، ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر اور ڈیرہ غازی خان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

لاہور میں جمعہ 5 اگست کو موسلا دھار بارش نے جہاں گرمی کا زور توڑا، وہیں نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ مون سون کی بارشوں نے لاہور شہر کی اہم شاہراہ پر بڑا شگاف ڈال دیا۔

اکبر چوک سے فیصل ٹاون تک جانے والی سڑک پر دس فٹ گہرا اور بارہ فٹ چوڑا شگاف تاحال بھرا نہ جا سکا۔ روڈ پر شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔

بلوچستان

بلوچستان میں ژوب، خضدار، بولان، کوہلو، قلات، لسبیلہ، آواران، زیارت، بارکھان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں دیر، چترال، سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ، مردان، پشاور، کوہاٹ، بنوں، مالا کنڈ، خیبر اور کرم میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے مزید 4 اموات کے بعد مجموعی طور پر تعداد 170 ہوگئی ہے۔ سیلاب کے باعث کوہلو، کیچ، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللّٰہ اور سبی میں بھی اموات ہوئیں۔ چمن سے لے کر گوادر تک مون سون بارشوں سے تباہی کے مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں۔

بارشوں سے بیلہ کی شاہی جامع مسجد بھی متاثر ہوئی جس کی دیواروں اور چھتوں پر دراڑیں پڑگئی ہیں۔ بہت سے متاثرہ علاقوں میں اب تک امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں اور خضدار میں متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں شدید گرمی اور حبس نے بھی سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

کشمیر میں بھمبر، کوٹلی، میر پور، سدھنوتی، پونچھ، باغ، حویلی، ہٹیاں بالا، مظفر آباد، وادی نیلم میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسنے کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

خیبر پختونخوا

خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں کے باعث کرک اور ٹانک کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں پاکستان ہلال احمر کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

صوبائی سیکریٹری ہلال احمر پاکستان سید علی حسن کے مطابق دونوں اضلاع میں میگا ریلیف آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ جدید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے اسی ہزار لیٹر پانی روزانہ کی فراہمی شروع کردی گئی ہے۔

ریلیف آپریشن بین الاقوامی ادارے برائے انسانیت آئی ایف آر سی اور آئی سی آر سی کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔ امداد اور بحالی پروگرام کے لئے متاثرین کی رجسٹریشن بھی شروع کردی گئی ہے۔

دونوں اضلاع میں مکمل تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو فی گھرانہ سولہ ہزار روپے نقد رقم کی فراہمی بھی کی جائے گی، جب کہ متاثرہ خاندانوں کو ہائی جین کٹس،واٹر جیری کین اور روابط کی بحالی کے لیے موبائل فون کارڈ بھی فراہم کیے جائیں گے۔

Tabool ads will show in this div