پنجاب میں ممکنہ آئینی بحران ٹل گیا، گورنر بلیغ الرحمان کو نئی کابینہ سے حلف لینے کی ہدایت

22 رکنی کابینہ کے حلف کے لیے کل ساڑھے 11 بجے کا وقت طے پا گیا

مسلم لیگ ن کی قیادت نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کو نئی کابینہ سے حلف لینے کی ہدایت کی ہے۔

پنجاب میں ممکنہ آئینی بحران ٹل گیا ہے، کیوں کہ لیگی قیادت نے تمام قیاس اور پیشگوئیوں کو جھوٹا ثابت کرتے ہوئے نئی کابینہ سے اپنے گورنر کے ذریعے حلف لینے کا بڑا فیصلہ کرلیا ہے۔

آئینی دستاویز کے مطابق صوبائی وزراء گورنر پنجاب سےعہدے کا حلف لینے کے پابند ہوتے ہیں، اور آئین کے تحت گورنر ہی وزیراعلیٰ کی تجویز پر کابینہ کے نام فائنل کرتا ہے، اور گورنر کےعلاوہ کسی کے پاس صوبائی وزراء سے حلف لینے کا اختیار نہیں۔

گزشتہ دنوں قیاس آرائیاں گردش کررہی تھیں کہ اگر تحریک انصاف کے رہنما اور صدر پاکستان عارف علوی اور سابق گورنر عمر چیمہ کی طرح مسلم لیگ کے رہنما اور پنجاب کے موجودہ گورنر بلیغ الرحمان نے نئی کابینہ سے حلف لینے سے انکار کردیا تو ملک کے سب سے بڑی آبادی والے صوبے میں ایک نیا آئینی بحران جنم لے گا۔

ان تمام پیش گوئیوں کے برعکس مسلم لیگ ن کی قیادت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کو اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اور ذرائع نے کہا ہے کہ ن لیگ تحریک انصاف کی طرح ملک میں کوئی آئینی بحران نہیں پیدا کرے گی۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے نومنتخب کابینہ کے حلف کی سمری گورنرہاؤس بجھوا دی ہے، جس کے مطابق 22رکنی کابینہ کے حلف کے لیے 6 اگست بروز ہفتہ صبح ساڑھے 11 بجے کا وقت طے پایا ہے۔

گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے آج جنوبی پنجاب میں ہونے کے باعث نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، تاہم لیگی قیادت کے مطابق گورنر پنجاب کل پنجاب کابینہ کے وزراء سے حلف لیں گے۔

اہم ذرائع نے سماء سے خصوصی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ن لیگ تحریک انصاف کی طرح ملک میں آئینی بحران پیدا نہیں کرے گی، سابق گورنرعمر چیمہ کےغیر آئینی کردار کو تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر لیا جائے گا۔

آئینی بحران کی قیاس آرائیاں

گزشتہ روز ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب کو ایک اورآئینی بحران کا سامنا ہے، کیوں کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہٰی کی کابینہ سے حلف نہیں لیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ ن لیگ کے گورنر بلیغ الرحمان وزیراعلیٰ پرویزالہٰی کی کابینہ سے حلف نہیں لیں گے، جب کہ کابینہ کی تشکیل گورنر کی منظوری کے بغیر مکمل نہیں ہوسکے گی۔ کیوں کہ آئینی دستاویز کے مطابق صوبائی وزراء گورنر پنجاب سےعہدے کا حلف لینے کے پابند ہوتے ہیں، اور آئین کے تحت گورنر ہی وزیراعلیٰ کی تجویز پر کابینہ کے نام فائنل کرتا ہے، اور گورنر کےعلاوہ کسی کے پاس صوبائی وزراء سے حلف لینے کا اختیار نہیں۔

Tabool ads will show in this div