پاکستان کو پولیو فری بنانے کا مشن خطرات سے دوچار

خواتین کو بھرتی کرنے میں مسائل درپیش ہیں

پاکستان کو پولیو فری بنانے کا مشن خطرات سے دوچار ہوگیا ہے۔پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کیلئے تمام علاقوں میں مرد ورکرز کو گھروں تک رسائی نہیں ملتی اور خواتین کو بھرتی کرنے میں مسائل درپیش ہیں۔

اسلام آباد میں کوآرڈینیٹر انسداد پولیو پروگرام ڈاکٹر شہزاد بیگ نے سماء سے گفتگو کرتےہوئے بتایا کہ پاکستان کو پولیو فری بنانے کا پروگرام ابھی ادھورا نہیں ہے، پاکستان کو ماضی میں پولیو ختم کرنے کے 2 مواقع ملے مگر ناکامی ہوئی۔

شہزاد بیگ نے عزم ظاہر کیا کہ ملک کو پولیو سے پاک بنانے کا تیسرا موقع ملا ہے جس کو ضائع نہیں کرینگے۔

انھوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں خصوصاً وزیرستان کے ماحولیاتی نمونوں میں وائرس موجود ہے۔ ملک میں مجموعی طور پر 14 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے13شمالی وزیرستان میں نکلے۔

شہزاد بیگ نے مزید بتایا کہ پاکستان میں 75 ایسی جگہیں ہیں جہاں مہینے میں 2 دفعہ سیوریج کے نمونے لیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے تاہم بچوں کا تحفظ ضرور کرسکتے ہیں، ویکسینیشن سے متعلق غلط فہمیاں،والدین کا انکار اور تحفظات بڑے مسائل ہیں۔

پولیو پروگرام کے کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں دو طرفہ آمدورفت بھی وائرس پھیلنے کا سبب ہے اور جب انسداد پولیو کا مہم کا معیار گرتا ہےتوکیسز بڑھ جاتے ہیں۔

POLIO.

Tabool ads will show in this div