لانگ مارچ کےدوران توڑپھوڑ: یاسمین راشد اور دیگر بے گناہ قرار

عدالت نے درخواستیں واپس لینے پر نمٹا دیں

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کے کیس میں عدالت نے پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد اور دیگر کو بے قصور قرار دے دیا ہے۔

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، حماد اظہر، شفقت محمود سمیت دیگر ملزمان کے خلاف لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام پر بنے کیس کی سماعت ہوئے۔ آج ہونے والی سماعت میں عدالت نے نامزد ملزمان کو عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دے رکھا تھا۔

کیس میں نامزد ملزمان پر لاہور کے علاقے تھانہ گلبرگ، شفیق آباد اور شاہدرہ سمیت دیگر تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔ آج ہونے والی سماعت میں تفتیشی افسران نے عدالت کے روبرو ریکارڈ پیش کیا۔ عدالت نے سماعت کے دوران ڈاکٹر یاسمین راشد، حماد اظہر، شفقت محمود، محمود الرشید، اعجاز چوہدری، میاں اسلم اقبال سمیت دیگر ملزمان کو تفتیش میں بے قصور قرار دے دیا۔

اس موقع پر پولیس کی جانب سے بھی اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان تفتیش میں بے قصور ثابت ہوئے ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے۔ جس کے بعد ملزمان کی جانب سے دائر کی گئیں ضمانتیں واپس لے لی گئیں۔

ملزمان نے پولیس کی رپورٹ کی روشنی میں ضمانتیں واپس لی، پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے گرفتاری کے خوف سے عبوری ضمانت کروائی گئی تھیں۔ ملزمان کے خلاف تھانہ شفیق آباد ،شاہدرہ ،گلبرگ اور بھاٹی گیٹ میں مقدمات درج تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ 30 جولائی کو سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بھی 10 مقدمات میں ضمانت منظور ہوئی تھی، جب کہ بغاوت کے مقدمے میں بھی سابق وزیراعظم کو عبوری ضمانت دی گئی۔

سماعت کے موقع پر سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی تھی تاہم بعد ازاں تحریک انصاف کے چیئرمین مقامی عدالت میں پیش ہوئے۔

وزیراعظم عمران خان پر مئی میں لانگ مارچ کے دوران توڑپھوڑ کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد 25 مئی کو ہونے والے لانگ مارچ کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں پر مقدمات درج کیے تھے جن میں اسد عمر اور دیگر شامل ہیں۔

عمران خان کے خلاف پہلا مقدمہ 26 مئی کو اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج ہوا تھا جس کے بعد عمران خان کے خلاف مجموعی طور پر 15 مقدمات درج ہوئے، جن میں 10 مقدمات ویسٹ کے تھانوں اور 5 مقدمات ایسٹ کے تھانوں میں درج ہوئے۔ عمران خان پر کار سرکار میں مداخلت، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی مجموعی طور پر 14 ایف آئی آرز درج ہوئی تھیں۔

یاد رہے کہ دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ تھی اور دارالحکومت میں اکٹھے ہونے والے لوگ مشتعل ہوگئے تھے جس کے بعد انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور سرکاری اور نجی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا تھا۔

اس حوالے سے درج مقدمات میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما کی زیر قیادت ریلی کو روکتے ہوئے انہیں دفعہ 144 کے نفاذ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا، تاہم عمران خان کے حکم پر پارٹی رہنماؤں راجا خرم نواز اور علی نواز اعوان نے ریلی کے شرکا کو اکسایا جس کے نتیجے میں انہوں نے پولیس کے خلاف مزاحمت کی اور ان پر پتھر برسائے۔

پولیس کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف 3 مقدمات تھانہ کوہسار میں درج کیے گئے جبکہ بھارہ کہو اور گولرا میں 2، 2 اور آبپارہ، ترنول، کراچی کمپنی، کورال، لوئی بھیر، مرگلہ، سیکریٹریٹ اور سہالہ پولیس اسٹیشن میں ایک، ایک مقدمے کا اندراج کیا گیا۔

PTI

yasmeen rashid

LONG MARCH PTI

Tabool ads will show in this div