پاکستان میں 53 ادویات کی قلت، پنجاب حکومت کی پی پی ایم اے سے مدد کی اپیل

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ادویات کی فراہمی یقینی بنائے، حکومت

پنجاب سمیت ملک بھر میں ادویات کا بحران شدت اختیار کرنے لگا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب نے پاکستان فارماسیوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن سے مدد کی درخواست کردی۔

وزیراعظم انسپکشن کمیٹی نے بھی ادویات کی قلت کی انکوائری شروع کردی ہے، اس وقت پنجاب میں 53 ضروری ادویات کی شدید قلت ہے۔

پی پی ایم اے کی جانب سے ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ پنجاب کو لکھے گئے ایک مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے مارکیٹ سے غائب ادویات کی فہرست اپنی ایسو سی ایشن کے اراکین کو بھیج کر ان کی فراہمی کو یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر پرائم منسٹر انسپکشن ٹیم (پی ایم آئی کمیٹی) نے ادویات کی قلت سے متعلق انکوائری شروع کردی ہے۔ کمیٹی میں محکمہ صحت سمیت دیگر اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں، کمیٹی نے وجوہات جاننے کیلئے تفصیلات جمع کرنا شروع کردی ہیں۔

کمیٹی نے ادویات کی قلت پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پی پی ایم اے اور دیگر حکام کو طلب کیا ہے۔ پی پی ایم اے کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پرائم منسٹر انسپیکشن کمیٹی نے انہیں ملاقات کیلئے بلایا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ڈرگ کنٹرول اور ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ صحت پنجاب محمد سہیل نے پاکستان فارما سیوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے حکام سے ملاقات کی اور انہیں مارکیٹ سے غائب 53 ادویات کی فہرست فراہم کی۔

محکمہ صحت پنجاب کے ذرائع کے مطابق ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پی پی ایم اے اپنی ممبر کمپنیوں کو ناپید ادویات بنانے کیلئے اثر و رسوخ استعمال کرے۔ محکمہ صحت پنجاب نے پاکستان فارما سوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن سے مدد کی درخواست بھی کی ہے۔

پی پی ایم اے کے ایک ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملک میں زیادہ تر یہ ادویات ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ہیں، ان میں سے بھی زیادہ تر تیار پراڈکٹ پاکستان آتی ہیں جو ڈالر کے ریٹ کے اُتار چڑھاؤ کی وجہ سے مارکیٹ سے غائب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تھیلیسیمیا، کینسر اور ٹرانسپلانٹ کے مریضوں کیلئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ادویات آنا بند ہوگئیں ہیں، پی پی ایم اے کی جانب سے اپنی ممبر آرگنائزیشن کو خط لکھا گیا ہے جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ 53 ادویات کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے۔

پی پی ایم اے ذمہ دار کا کہنا تھا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ایسوسی ایشن فارما بیورو ہے جو ہمارے ماتحت نہیں، اس لئے زیادہ بہتر ہے کہ محکمہ صحت پنجاب فارما بیورو جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ایسوسی ایشن ہے سے ملاقات کرے۔

پی پی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک خام مال مہنگا ہونے اور ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ملک میں ادویات کا بحران بڑھتا جارہا ہے، خام مال کا ریٹ ایک ڈیڑھ سال میں ڈبل ہوگیا، پیٹرول ڈیزل مہنگا ہوا، جس کی وجہ سے ملک میں ہر چیز مہنگی ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری میڈیسن پر بھی تمام چیزوں کا اثر ہوا ہے لیکن ہم اپنی ادویات کی قیمت خود سے نہیں بڑھا سکتے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی قیمتیں فکس کرتی ہے، کیبنٹ ادویات کی قیمتوں کی منظوری دیتی ہے، باقی دوسری تمام انڈسٹریز نے قیمتیں بڑھائی ہیں۔

medicine

PUNJAB

HEALTH

PAKISTAN PHARMACEUTICAL MANUFACTURER ASSOCIATION

Tabool ads will show in this div