یو ایس ڈی ٹی میں سرمایہ کاری کرنیوالے پھنس گئے

فروخت دباؤ بڑھ گیا، 220 روپے سے نیچے بھی خریدار نہیں مل رہے

کرپٹو مارکیٹ سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ پچھلے ماہ 28 جولائی کو جب ڈالر اوپن مارکیٹ میں 250 روپے کی سطح پر پہنچا تو یو ایس ڈی ٹی 256 روپے تک میں فروخت ہونے لگا تھا اور اس وقت صورتحال یہ تھی کہ ڈالر کے 300 روپے پر پہنچنے کی افواہیں گردش کررہی تھیں، جس کے پیش نظر یو ایس ڈی ٹی رکھنے والے فروخت کیلئے تیار نہیں تھے جبکہ مزید قیمت بڑھنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے خریداری بھی ہورہی تھی لیکن اگلے روز جمعہ سے حالات بدلنے لگے اور نئے ہفتے کے آغاز سے صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی۔

کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے مطابق گزشتہ ہفتے یہ اندازے لگائے جارہے تھے کہ ڈالر اور اس کے زیر اثر یو ایس ٹی ڈی کتنا اوپر جاسکتا ہے؟ اور اب صورتحال یہ ہے کہ ڈالر اور یو ایس ٹی ڈی کے گرنے کی آخری حد کے بارے میں پوچھا جارہا ہے۔

امریکی ڈالر اور یو ایس ٹی ڈی میں کیا تعلق ہے؟

کرپٹو کرنسیوں میں کچھ کرنسیاں مستحکم کرپٹو کرنسیاں کہلاتی ہیں جس کی قیمت ڈالر کے مساوی ہوتی ہے اور عام طور پر اسی مستحکم کرنسی کے ذریعے دیگر کرپٹو کرنسیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

مستحکم کرنسیوں میں سب سے معروف یو ایس ڈی ٹی ہے، پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت اور ٹرانزیکشن کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے تاہم شہری آپس میں بینک اکاؤنٹ یا ایزی پیسہ کے ذریعے یو ایس ڈی ٹی کی خریدف و فروخت کرتے ہیں اور بعد میں ایکسچینج پر اسی کے ذریعے دیگر کرپٹو کرنسیوں کی ٹریڈنگ کرتے ہیں۔

شہریوں نے یو ایس ڈی ٹی کو ہی کمائی کا ذریعہ بنالیا

عام طور پر یو ایس ڈی ٹی یا کوئی اور مستحکم کرنسی دیگر کرنسیوں جیسے بٹ کوائن، ایتھریم جیسے کوائن کی خرید و فروخت میں استعمال ہوتے ہیں، لیکن کچھ لوگوں نے اسی یو ایس ڈی ٹی کو کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے اور وہ کرنسی ڈیلرز سے ڈالر خریدنے اور پھر بیچنے کے بجائے یو ایس ڈی ٹی خرید کر قیمت بڑھنے پر بیچ دیتے ہیں۔

خاص طور پر گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان میں ڈالر کی غیر معمولی اڑان کو دیکھتے ہوئے یہ رجحان بڑھ گیا اور بڑے پیمانے پر یو ایس ڈی ٹی کی خریداری کی جارہی تھی۔

یو ایس ڈی ٹی رکھنے والوں کو نقصان ہوا یا فائدہ؟

ڈالر کی قدر میں گراوٹ شروع ہونے کے ساتھ یو ایس ڈی ٹی کی قیمت بھی تیزی سے گر رہی ہے، جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 250 روپے کی سطح پر پہنچا تو یو ایس ڈی ٹی 256 روپے تک فروخت ہوئی لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 221 روپے کی سطح پر آگئی ہے اور جمعرات کو 215 تا 219 روپے میں یو ایس ڈی ٹی کو آفر کئے گئے جبکہ دن بھر فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا لیکن خریدار غائب رہے۔

کرپٹو مارکیٹ میں ٹریڈنگ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے 200 روپے اور اس سے بھی کم میں یو ایس ڈی ٹی خریدے تھے اور وہ 250 روپے میں فروخت کرکے نکل گئے لیکن ایسے بھی بہت سارے ہیں جنہوں نے 250 روپے میں خریداری کی وہ پھنس گئے ہیں، یہاں تک کہ 215 روپے سے اوپر کی خریداری کرنے والے تمام لوگوں کو نقصان کا سامنا ہے۔

dollar

USDT

DIGITAL CORRENCY

Tabool ads will show in this div