بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے اموات 170 ہوگئیں، پی ڈی ایم اے

مزید 4 افراد جاں بحق، 55 بچے اور 43 خواتین بھی شامل ہیں، رپورٹ

پی ڈی ایم نے بارشوں سے نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کردی، بارشوں اور سیلاب سے مزید 4 افراد جاں بحق ہوگئے، مرنے والوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 55 بچے اور 43 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ بلوچستان بھر میں 15 ہزار 337 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں میں 670 کلو میٹر پر مشتمل مختلف 6 شاہراہیں شدید متاثر ہوئیں۔

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی صورتحال سے سب سے زیادہ لسبیلہ متاثر ہوا، جہاں حب سے بیلہ تک 3 سے 4 بڑے پل ٹوٹ گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اب تک کچھ تحصیلوں تک پہنچ ہی نہیں سکے، لسبیلہ میں 20 ہزار ٹینٹ بھی کم پڑ سکتے ہیں، میں جہاں جہاں گیا ہوں یا تو گھر گر گئے ہیں یا رہنے کے قابل نہیں۔

جام کمال خان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے یہاں کا دورہ تک نہ کیا، شہید کور کمانڈر مکمل دورہ کر کے گئے لیکن سیاسی اکابرین نہیں آسکے، 10 دنوں سے لسبیلہ کے عوام سیلاب سے متاثر ہیں، وزیراعظم سے اپیل ہے کہ یہاں ہنگامی بینادوں پر کام کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب کوسٹل ہائی وے اور آر سی ڈی ہائی وے کی بحالی کا کام شروع کردیا گیا، جس میں مقامی افراد، پاک فوج اور سول انتظامیہ شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاک فوج اور حکومت بلوچستان کے محکمہ مواصلات اور تعمیرات کے باہمی تعاون کے نتیجے میں کراچی سے کوئٹہ اور گوادر جانیوالی ٹریفک کیلئے کوسٹل ہائی وے اور آر سی ڈی ہائی وے کے دونوں حصے کھول دیئے گئے ہیں۔

بلوچستان کے ضلع پشین میں بھی مون سون کی طوفانی بارشوں نے خوب تباہی مچائی، جہاں خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے، وہیں سینکڑوں ایکڑ رقبے پر پھیلی فصلیں اور باغات بھی تباہ ہوگئے۔

باغبان کہتے ہیں کہ سالوں کی محنت ضائع ہوگئی، کروڑوں روپے کا نقصان ہوا، حکومت مدد کرے،

زمینداروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے علاقے کا دورہ کیا اور نہ ہی صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں متاثرین کی مدد کیلئے آئیں۔

بارشوں اور سیلابی پانی سے ملکیار، طور شاہ، منزکی، ڈب کراس اور تراٹھ میں درجنوں کچے مکانات بھی مہندم ہوئے ہیں۔

Monsoon Rain

BALOCHISTAN FLOOD

Tabool ads will show in this div