ن لیگ کے رہنما نذیر چوہان سمیت 8 ملزمان کی ضمانت منظور

ملزمان کو ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم

لاہور کی انسداد دہشتگری عدالت نے ضمنی الیکشن مہم کےدوران پولیس پر حملے اور فائرنگ کے مقدمے میں مسلم لیگ ن کے رہنما نذیر چوہان اور دیگر ملزمان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے رہنما نذیر چوہان سمیت 8 افراد نے ضمانت کے لیے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔

انسداد دہشتگری عدالت نے لیگی رہنما نذیر چوہان سمیت 8 ملزمان کی ضمانت منظور کرلی، جب کہ تمام ملزمان کو ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ تھانہ چوہنگ پولیس نے نذیر چوہان پر پولیس پر حملے اور فائرنگ کا مقدمہ درج کر رکھا ہے، پولیس نذیرچوہان سمیت دیگر کیخلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

کیس کا پس منظر

یکم اگست کو پوليس نے نذیر چوہان کو پنجاب ضمنی الیکشن میں انتخابی مہم کے دوران فريقين کے مابین ہونے والے جھگڑا کیس ميں حراست ميں ليا تھا۔

لیگی رہنما نذیر چوہان پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خالد گجر اور شبیر گجر پر حملے کا الزام ہے، واقعے میں خالد گجر کا بیٹا زخمی ہوا تھا۔

نذیر چوہان حالیہ ضمنی الیکشن مین مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر پی پی 167 سے امیدوار تھے تاہم اس حلقہ سے پی ٹی آئی کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی ، انتخابی مہم کے دوران نذیر چوہان اور پی ٹی آئی کے امیدوار خالد گجر نے ایک دوسرے پر حملے کے الزامات عائد کئے تھے۔

2 اگست کو پولیس نے نذیر چوہان اور دیگر ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا، اور نذیر چوہان سمیت دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی، پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزمان کے پاس بھاری مقدار میں اسلحہ ہے، جو ریکور کرنا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء کے وکیل نے کہا کہ نذیر چوہان پر جوہر ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج ہے، یہ واقعہ الیکشن کے دوران پیش آیا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے تفتیش کی، انہوں نے ہمیں کلین چٹ دی، ایس ایس پی کے مطابق مقدمے میں گرفتاری درکار نہیں تھی، نذیر چوہان کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے نذیر چوہان کو بدنیتی کی بنیاد پر گرفتار کیا، مقدمے کو عدم شوائد کی بنیاد پر خارج کیا جائے۔

عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے نذیر چوہان نے کہا کہ میری ادویات مجھے فراہم نہیں کی جارہیں، جس پر خاتون جج نے جواب دیا کہ آپ فکر نہ کریں میں دیکھتی ہوں۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ قانون میں رہ کر کام کریں، کوئی غیر قانونی کام نہیں ہونا چاہئے۔

انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کی جج نے نذیر چوہان سمیت دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

3 اگست کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما نذیر چوہان سمیت 8 افراد نے ضمانت کے لیے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کیا، نذیر چوہان نے اپنے وکیل سردار اکبر ڈوگر کی وساطت سے درخواست ضمانت بعدازگرفتاری دائر کی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ تھانہ چوہنگ پولیس نے جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کےلیے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں۔

یہ بھی بتایا گیا کہ عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا بھی مسترد کردی تھی۔عدالت سے استدعا کی گئی کہ بعد ازگرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کی جائے۔

عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔عدالت نے نذیر چوہان کی درخواست ضمانت پر سماعت اگلے روز جمعرات تک ملتوی کردی۔

Tabool ads will show in this div