ایمن الظواہری کا ٹھکانہ کس نے بتایا؟، زلمے خلیل زاد نے طالبان پر ہی انگلی اٹھادی

ہم نے طالبان کی قیادت پر کبھی اعتماد نہیں کیا، سابق امریکی نمائدنہ خصوصی برائے افغانستان

امریکا کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان ہی میں سے سے کسی نے امریکا کو ایمن الظواہری سے متعلق بتایا ہوگا۔

امریکی ریڈیو کو دیئے گئے انٹرویو میں زلمے خلیل زاد نے کہا کہ یہ بات تو یقینی ہے کہ طالبان کے کچھ رہنماؤں کو کابل میں ایمن الطواہری کی موجودگی کا علم تھا لیکن وہ یہ بات یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ ابس بارے میں اعلیٰ ترین قیادت بھی جانتی تھی۔

سابق نمائندہ خصوصی نے کہا کہ اس خیال کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ طالبان کے کچھ عناصر کو اس بات پر شدید اعتراض تھا کہ کچھ لوگ امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ انہوں نے ماضی سے یہی سبق سیکھا تھا کہ آخری بار القاعدہ کی حمایت کرنا انہیں بہت مہنگا پڑا تھا۔

مزید پڑھیے: القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری ہلاک

زلمے خلیل زاد نے مزید کہا کہ یہ امر بھی ان کے لیے حیران کن نہیں کہ طالبان ہی میں سے کسی نے امریکا کو ایمن الظواہری کی رہائش گاہ کے بارے میں بتایا ہو۔

امریکی سفارت کار نے کہا کہ طالبان نے امریکا کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا ہے جس کے 2 حصے ہیں۔ پہلے حصے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ طالبان افغان سرزمین کو کسی گروہ یا فرد خاص طور پر القاعدہ کو استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ اس لئے امریکی وزیر خارجہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے سربراہ کو کابل میں رہائش کی اجازت دینا اس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی تھی۔

مزید پڑھیے: ایمن الظواہری:سنیما سے القاعدہ کی سربراہی تک

زلمے خلیل زاد نے مزید کہا کہ ہم نے طالبان کی قیادت پر کبھی اعتماد نہیں کیا۔ ہم انہیں اس معاہدے پر عمل کے ذمہ دار گردانتے ہیں جو انھوں نے امریکا سے کیا۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے امریکا کے لئے خطرہ بننے والے القاعدہ یا ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت کو برقرار رکھا ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔

Tabool ads will show in this div