وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اچھا کام کر رہے ہیں،شہباز شریف

متاثرین کیلئے امدادی رقم 10 لاکھ تک بڑھانے کا اعلان

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے جمعرات 4 جولائی کو خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

اس موقع پر وزرا، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، مولانا اسعد رحمان، انجینیر امیر مقام اور دیگر حکام بھی ہمراہ تھے۔ کے پی کے ضلع ٹانک آمد پر انتظامیہ اور دیگر حکام نے وزیراعظم شہباز شریف کو حالیہ مون سون بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کارروائیوں پر بریفنگ دی۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد سے متعلق دریافت کیا۔ حکام نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ ٹانک کے علاقے پائی میں سیلاب سے نقصانات، امداد اور بحالی کے کام جاری ہیں۔ ٹانک اور ڈی آئی خان میں حالیہ بارشوں کے باعث املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ بارشوں کے باعث سیلابی ریلے سے فصلیں متاثر اور بڑی تعداد میں گھر تباہ ہوئے۔

حکام کا کہنا تھا کہ بارشوں اور سیلاب سے لائیو اسٹاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے صوبائی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت متاثرین کیلئے امدادی رقم 8 سے بڑھا کر 10 لاکھ کر دے، بلوچستان میں بھی متاثرین کو ہم 10 لاکھ روپے دیئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا وزیراعلیٰ سے کہیں کہ 10 لاکھ صوبائی حکومت اور 10 لاکھ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخواحکومت کے سیلاب متاثرین کو بطور امدادی رقم دی جائے۔

انہوں نے بہترین انتظامات پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اچھا کام کر رہے ہیں۔ کے پی حکومت سیلاب متاثرین کیلئے امدادی رقم میں بھی اضافہ کرے۔

دورے کے موقع پر وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سیلاب سے تباہ ہونے والا ٹانک روڈ دوبارہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے مکمل تباہ گھر کے مالک کو 5 لاکھ اور جزوی متاثر گھر کو 2 لاکھ روپے دے رہے ہیں۔ شہباز شریف نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں کا دورہ مکمل کر کے ایک دو روز میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ میٹنگ بھی کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کیلئے سب مل کر کام کر رہے ہیں، اسی یکسوئی کی ضرورت ہے، اور اسی اخوات کی بھی ضرورت ہے، ڈیرا مہربانی۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے پاس 16 ہزار ایکڑ اراضی قابل کاشت ہے۔ خیبر پختونخوا آمد پر وزیراعظم شہباز شریف سیلاب زدہ علاقوں کا جائزہ اور متاثرين سے ملاقاتیں بھی کیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ٹانک میں سیلابی ریلوں سے تین دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ جب کہ سیلابی ریلوں میں دو افراد جاں بحق، اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ امدادی کاموں سے قبل متاثرہ علاقوں میں اشیائے خوردونوش اور پینے کے پانی کی قلت پیدا رہی۔ جب کہ ہیضہ کی وباء پھوٹنے سے تین افراد جاں بحق، اور متعدد متاثر ہوئے۔

Tabool ads will show in this div