یو این ڈی پی نے خواجہ سراؤں میں ایچ آئی وی سے متعلق آگہی پروگرام بند کردیا

فیصلے سے 22 خواجہ سراء باعزت روزگار سے محروم ہوگئے

اقوام متحدہ ڈیولپمنٹ پروگرام (یواین ڈی پی) نے بغیر کسی نوٹس کے خواجہ سراؤں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے آگاہی پروگرام بند کردیا، جس کی وجہ سے 1300 خواجہ سراؤں کا علاج بھی خطرے میں پڑگیا جبکہ پروگرام رُکنے کی وجہ سے 22 خواجہ سراء نوکری سے فارغ ہوجائیں گے۔ خواجہ سراء کمیونٹی نے 14 اگست کو یو این ڈی پی آفس کے باہر احتجاج کا اعلان کردیا۔

رپورٹ کے مطابق صرف کراچی شہر میں 19 ہزار خواجہ سراء موجود ہیں، جن میں سے ایچ آئی وی پروگرام سندھ میں رجسٹرڈ خواجہ سراؤں کی تعداد 1500 ہے۔

خواجہ سراء رہنماء شہزادی نے الزام عائد کیا کہ یو این ڈی پی نے خلاف ضابطہ جینڈر انٹرایکٹو الائنس (جی آئی اے) سے معاہدہ ختم کیا، اس معاہدے کے تحت جی آئی اے کو 2023ء تک خواجہ سراؤں کی بہبود کیلئے کام کرنا تھا، جس میں ایچ آئی وی، ٹی بی اور ملیریا جیسی بیماریوں کیخلاف خواجہ سراؤں کو صحت کی سہولیات، علاج اور آگہی فراہم کرنا تھی، اس کی ساری فنڈنگ گلوبل فنڈ مہیا کررہا ہے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت 22 خواجہ سراء کو باعزت روزگار بھی میسر تھا جنہیں بغیر کسی نوٹس کے ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمینیشن کا کوئی طریقۂ کار اور قانون ہوتا ہے لیکن یہاں کوئی قانونی طریقۂ کار نہیں اپنایا گیا۔

شہزادی نے مزید کہا کہ گلوبل فنڈ کے اس پروجیکٹ کے تحت ایچ آئی وی سے بچاؤ کیلئے ‘‘کی پاپولیشن’’ کی 6 مزید این جی اوز بھی کام کررہی ہیں لیکن نشانہ صرف خواجہ سراؤں کو بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے، ہم اسپتال جائیں تو وہاں علاج نہیں ملتا کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صرف کراچی میں 19 ہزار خواجہ سراء موجود ہیں جن میں صرف 1500 خواجہ سراء ایچ آئی وی پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 1300 کو علاج کی سہولیات مہیا کی جارہی تھیں اور 200 خواجہ سراء کاؤنسلنگ کے مرحلے سے گزر رہے تھے۔

خواجہ سراء رہنماء نے کہا کہ اب ایسے اچانک اس پروگروام سے خواجہ سراؤں کو نکال دیا گیا ہے، انہیں علاج کی سہولیات کیسے میسر آئیں گی، اسپتال اور معاشرے تو ہمیں قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

شہزادی نے اعلان کیا کہ کراچی کی خواجہ سراء کمیونٹی 14 اگست کو یو این ڈی پی اور وفاقی وزارت صحت کے دفتر کے باہر دھرنا دیگی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروائے گی۔

دوسری جانب اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے علاج کیلئے پابندی اور فالو اپ انتہائی اہم ہے، اس میں کمیونٹی کی انگیجمنٹ ضروری ہے، اگرچہ جی ایف اے کے ذریعے علاج مفت فراہم کیا جارہا ہے لیکن جب تک اس میں کمیونٹی کی شمولیت نہ ہو انہیں ایچ آئی وی کی روک تھام اور علاج کیلئے راضی کرنا مشکل ہے۔

یو این ڈی پی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جی آئی اے کے ساتھ معاہدہ مدت پوری ہونے پر از خود ختم ہوگیا، کسی کو بھی نوکری سے فارغ نہیں کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ادارے کا مزید کہناہے کہ یو این ڈی پی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ٹرانس جینڈرز کو صنفی امتیاز اور بدنامی سے پاک زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

بدھ کے روز خواجہ سراؤں، سول سوسائٹی نے پریس کلب کے سامنے احتجاج بھی کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بغیر کسی اطلاع کے پروجیکٹ کو ادھورا چھوڑ دینا خواجہ سراؤں اور دیگر انسانوں میں تفریق پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

سندھ کا مؤقف

کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) ایچ آئی وی / ایڈز کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اور سی ڈی سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سندھ ڈاکٹر ارشاد کاظمی کا کہنا ہے کہ یو این ڈی پی کی جانب سے جی آئی اے کو لکھے گئے خط کی کاپی موصول ہوئی ہے، جس میں کہا گیا کہ معاہدہ ناگزیر وجوہات کی بناء پر ختم کیا گیا ہے، اس سے زیادہ معلومات شیئر نہیں کی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ایچ آئی وی کے مریضوں کو صوبہ بھر کے ٹریٹمنٹ سینٹرز پر بلا معاوضہ علاج کی سہولت دستیاب ہے۔

پاکستان

transgender

UNDP

Tabool ads will show in this div