ملک بھر میں نئی سرکاری جامعات کھولنے پر پابندی عائد

تعلیم معیاری نہ ہو تو یونیورسٹیز کی بھرمار کا کیا فائدہ؟وزیرتعلیم

وزارت تعلیم نے ملک بھر میں نئی سرکاری جامعات کھولنے پر پابندی لگا دی۔

فیصلہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تعلیم و تربیت کے اجلاس میں کیا گیا۔ وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ تعلیم معیاری نہ ہو تو یونیورسٹیز کی بھرمار کا فائدہ نہیں۔

رکن کمیٹی اسلم بھوتانی اور نثار احمد چیمہ نے کہا سرکاری جامعات میں ڈگریاں تو ریوڑیوں کی طرح بانٹی جا رہی ہیں لیکن طلبہ کو آتا کچھ بھی نہیں۔ بلوچستان یونیورسٹی سے فارغ التحصل پی ایچ ڈیز درخواست تک درست نہیں لکھ سکتے۔

ارکان کمیٹی نے یونیورسٹیز میں کرپشن اور جعلی ڈگریوں کی شکایات کے انبار لگائے تو وزیر تعلیم نے اس کے سد باب کیلئے بڑا اعلان کر دیا۔

وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ اب یونیورسٹیز پبلک سیکٹر میں نہیں بنیں گی اور جو بنی ہیں ان کی کوالٹی پہ توجہ دی جائے۔ کوانٹٹی یعنی نمبر پہ نہیں جانا ہم نے کوالٹی پہ جانا ہے۔ اسی پالیسی پہ عمل ہوگا۔

چئیرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے کہا سرکاری ونجی جامعات کے قیام کی پہلی شرط ملکیتی اراضی زمین ہے۔

ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جو بچے پڑھ رہے ہیں کل ڈگریاں لے کے خوار نہ ہوں ، کوئی بھی ادارہ تب تک آپریٹ نہیں کر سکتا جب تک وہ ایچ ای سی کا این او سی نہیں لے لیتا۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی سرکاری ہو یا نجی این او سی کے بغیر کسی کو کام کی اجازت بالکل نہیں دیں گے۔

universities

hec

Standing Committee on Education

Tabool ads will show in this div