بلوچستان میں طوفانی بارشیں اورسیلاب،جاں بحق افرادکی تعداد 164 ہوگئی

مزید 15 افراد جان سے گئے

بلوچستان میں طوفانی بارشوں سے مزید 15 افراد جان سے گئےجبکہ جاں بحق افراد کی تعداد 164 ہوگئی ہے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے مزید 15 افراد کی جانیں چلی گئی ہیں۔ صوبے میں بارشوں، سیلابی ریلوں اور مختلف واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد164 ہوگئی ہے۔ سینکڑوں کلومیٹر سڑکیں اور درجنوں پل بھی پانی کی نذر ہوگئے۔

حالیہ بارشوں نے ضلع کوہلو کو بری طرح متاثر کیا ہے اور سینکڑوں ایکڑ پر محیط کھڑی فصلیں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں۔ کپاس، مرچ، ٹماٹر کی فصلیں اورپھلوں کے باغات تباہ ہوچکے ہیں جب کہ 2ہزار900 مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ کر ہلاک ہوچکے ہیں۔

کوہلو میں 2630 سولر پینل اور 109 لوکل بوربارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اورضلع بھرمیں 1390 خاندان حالیہ بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

بارشوں سے کوئٹہ کا علاقہ سرہ خولہ بھی شدید متاثرہوا ہے۔ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلے نے تباہی مچائی ہے۔علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ سیلابی ریلے میں 50 سے زائد مکانات تباہ ہوئے جب کہ سینکڑوں مویشی بہہ گئےہیں۔

متاثرین کا شکوہ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اب تک صرف علاقے میں خیمے فراہم کیے گئے ہیں۔

ادھر قلات میں معمولات زندگی دوبارہ سے ڈگر پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ قلات انتظامیہ کی جانب سے بند سڑکوں کو کھولنےاورمتاثرین میں امدادی سامان کی تقسیم تیزی سے جاری ہے۔ سب تحصیل گزگ کی بند سڑک کو آج بحال کرنے اور غذاٸی قلت دور کرنے کے لٸے کوششیں بھی کی جارہی ہے۔

PDMA

BALUCHISTAN

floods

Tabool ads will show in this div