ایمن الظواہری کو مارنے کیلئے کونسا میزائل استعمال ہوا؟

القاعدہ رہنماء کو منگل کی صبح کابل میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا

امریکا نے اتوار کو کابل میں ڈرون حملے میں اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی اور سینئر القاعدہ رہنماء ایمن الظواہری کو ہلاک کردیا۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے میں انتہائی جدید ٹیکنالوجی سے لیس میزائل استعمال کیا گیا۔

امریکا نے اتوار کی صبح 6 بج کر 18 منٹ پر کابل میں القاعدہ کے رہنماء ایمن الظواہری کو مارنے کیلئے جو ہتھیار استعمال کیا وہ کوئی عام میزائل نہیں تھا بلکہ اس کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔

روایتی طور پر امریکا اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کیلئے ڈرون کے ذریعے بم نما میزائل استعمال کرتا ہے، جس کے دھماکے سے پھٹنے کے باعث ہدف کے ساتھ ساتھ اس جگہ کے ارد گرد موجود دیگر چیزوں کو بھی بھاری نقصان ہوتا ہے اور اکثر ہدف کے علاوہ آس پاس موجود کئی لوگ ہلاک ہوجاتے تھے، جنہیں امریکا کی جانب سے ‘‘کولیٹرل ڈیمیج’’ کا نام دیا جاتا تھا۔

مزید جانیے: کابل میں ڈرون حملہ،القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری ہلاک

ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ برس 29 اگست کو کابل میں امریکا کی جانب سے کئے گئے ایک ڈرون حملے میں پیش آیا، جس میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد ہلاک ہوگئے تھے، امریکا نے بعد میں اس حملے پر معذرت بھی کی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ امریکا نے القاعدہ رہنماء کو نشانہ بنانے کیلئے الگ قسم کا ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکا نے ممکنہ طور پر ہیل فائر آر نائن ایکس (Hellfire R9X) نامی ایک جدید اور خاص میزائل استعمال کیا، جس میں کوئی پھٹنے والا باردوی مواد نہیں بلکہ بلیڈ یا چاقو لگے ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بلیڈ ہدف کے جسم کو نشانہ بناتے ہیں لیکن اس سے آس پاس کے لوگ متاثر نہیں ہوتے، نہ ہی تعمیرات کو کوئی بڑا نقصان پہنچتا ہے۔

تاحال امریکا نے سرکاری سطح پر اس میزائل کے استعمال کی تصدیق نہیں کی، تاہم اے ایف پی کے مطابق امریکا اب تک ‘اڑن گنسو’ یا ‘ننجا بم’ کے لقب سے مشہور یہ میزائل نصف درجن مرتبہ استعمال کرچکا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ الظواہری کے اہلِ خانہ حملے کے وقت گھر میں موجود تھے مگر انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ محفوظ رہے۔

ممتاز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ آر نائن ایکس سابق امریکی صدر براک اوباما کے دباؤ پر بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد یہی تھا کہ ہدف کے علاوہ اس کے قریب موجود دوسرے لوگ نقصان سے محفوظ رہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر ڈرون میں استعمال ہونیوالے ہیل فائر میزائل میں 9 کلوگرام کے لگ بھگ باردوی مواد ہوتا ہے، جب یہ پھٹتا ہے تو اس مقام کو خاصا نقصان پہنچتا ہے اور اس سے متعدد افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔

امریکی سی آئی اے نے 2019ء میں اسامہ بن لادن کے داماد ابو الخیر المصری کیخلاف شام کے صوبہ ادلب میں آر نائن ایکس میزائل استعمال کیا تو اس وقت المصری ایک گاڑی میں سفر کررہے تھے، میزائل گاڑی کی چھت سے گزر کر المصری کو آلگا اور انہیں ہلاک کر ڈالا مگر بعد میں جب اس گاڑی کی تصویریں سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ چھت کے سوراخ کے علاوہ اسے کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔

اسی طرح 24 جون 2020ء کو ایک اور القاعدہ رہنماء خالد العاروری کو ہلاک کرنے کیلئے بھی یہی میزائل استعمال کیا گیا، اس میزائل میں 6 لمبے بلیڈ لگے ہوئے تھے جو اپنے ہدف سے ٹکرانے کے بعد فعال ہوگئے اور انہوں نے اپنے ہدف کو چیر پھاڑ دیا۔

ڈرون کہاں سے اڑا تھا؟

ابھی تک امریکا نے یہ معلومات ظاہر نہیں کیں کہ افغانستان میں القاعدہ رہنماء ایمن الظواہری کو نشانہ بنانے والا میزائل فائر کرنے کیلئے ڈرون کہاں سے اڑا تھا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ برس افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد واضح کیا تھا کہ امریکا جب مناسب سمجھے گا، افغانستان میں اہداف کیخلاف کارروائی کرے گا، تاہم یہ سوال پیدا ہوا کہ اب امریکی ڈرون کہاں سے اڑیں گے؟، کیونکہ اس وقت کے پاکستانی وزیرِاعظم عمران خان نے ‘absolutely not’ کہہ کر پاکستان سے ایسی کسی کارروائی کا امکان ختم کردیا تھا۔

انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اب امریکا کے پاس وسطی ایشیاء کے کسی ملک میں کوئی ایسا اڈہ نہیں ہے جہاں سے افغانستان میں کارروائی کی جاسکے، تاجکستان اور قازقستان ایسے دو ممالک ہیں جنہیں امریکا ممکنہ طور پر استعمال کرسکتا ہے، لیکن ان دونوں ملکوں پر روس کا دباؤ ہے، اور یوکرین جنگ کے تناظر میں وہاں سے ڈرون اڑانا اس وقت قرینِ قیاس نہیں ہے۔

افغانستان

ALQAEDA

US drone attack

Aiman al Zawahiri

Tabool ads will show in this div