تحریک انصاف کا 16 بینک اکاؤنٹس ضبط کرنے کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

پی ٹی آئی ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو عوام سے چندہ لیتی ہے، فواد چوہدری

پاکستان تحریک انصاف نے 16 بینک اکاؤنٹس کو ضبط کرنے کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو عوام سے چندہ لیتی ہے دیگر جماعتوں نے سیٹھ رکھے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے خلاف کیس کے دو حصے تھے، پہلا حصہ تھا کہ کیا یہ کیس فارن فنڈنگ کا ہے؟ ہمارا پہلے دن سے یہی موقف رہا کہ یہ فارن فنڈنگ کا کیس نہیں، ہمیں الیکشن کمیشن سے کوئی توقع نہیں تھی لیکن وہ بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فارن فنڈنگ نہیں تھی۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف کیس کا دوسرا حصے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے 16 بینک اکاؤنٹس ظاہر نہیں کئے گئے، ہمارا پہلے دن سے موقف رہا ہے کہ وہ اکاؤنٹس عمران خان نے نہیں کھولے تھے، ان کا عمران خان سے براہ راست تعلق نہیں ہے، اگلے مرحلے میں ہم بتائیں گے کہ یہ 196 اکاؤنٹس بھی قانونی ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے خلاف 2008 اور 2013 کے درمیان فنڈنگ کا کیس تھا، جس میں ہم نے 3 سے 4 ارب روپے کے عطیات وصول کئے۔ اس میں زیادہ حصہ سمندر پار مقیم پاکستانیوں کا تھا۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک کی معاشیت میں ریڈھ کی ہڈی سمجھتے ہیں، ہم اب بھی اوورسیز پاکستانیوں پر ہی عطیات کے لئے بھروسہ کریں گے۔ نامنظور ڈاٹ کام میں ہمیں 5 سے 6 روز میں 47 کروڑ روپے ملے، اس میں نصف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے دیئے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جئے یو آئی (ف) سمیت تمام لوگوں کی فنڈنگ کے ذرائع کا معلوم ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی سمیت کسی جامعت کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی فنڈنگ کو عوام سے چھپائے۔ ہم امید رکھتے ہین کہ الیکشن کمیشن دیگر جماعتوں کی فنڈنگ کے بارے میں بتائیں اور یہ ثابت کریں گے کہ ملک میں قانون کی عملداری ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اکاؤنٹس کو ضبط کرنے کا فیصٓلہ قانون کے مطابق نہیں، یہ 16 اکاؤنٹس سبسیڈری اکاؤنٹ ہیں انہیں ضبط نہیں کیا جاسکتا، ہم اس فیصلے کو چینلج کریں گے۔

اس موقع پر فرخ حبیب نے کہا کہ فارن فنڈنگ کے حوالے سے فیصلے سے پاکستان تحریک انصاف کی جیت ہوئی ہے۔

ملیکہ بخاری نے کہا کہ ہم پہلے دن دے کہتے رہے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے بیرون ملک سے فنڈنگ نہیں لی لیکن ہمارے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا۔ ہمارا موقف تھا کہ یہ فارن فنڈنگ کا نہیں ممنوعہ فنڈنگ کا کیس ہے، 2018 میں تشکیل دی گئی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹس آج تک کھل کر منظر عام پر کیوں نہیں آئیں۔

الیکشن کمیشن کا فیصلہ

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنادیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے ممنوعہ فنڈز لیے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 2008 سے 2013 تک مس ڈکلیئریشن کیں۔

FOREIGN FUNDING

Foreign Funding Case

PTI FOREIGN FUNDING CASE

Tabool ads will show in this div