مہنگائی کی شرح 4.35 فیصد اضافےسے24.93 فیصد کی بلند سطح پرپہنچ گئی

ملک میں مہنگائی کا 14 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

ملک میں مہنگائی کا 14 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ ملک میں شرح 4.35 فیصد اضافے سے 24.93 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق جولائی میں مہنگائی 4.35اضافے سے 24.93 فیصد کی بلند سطح تک پہنچ گئی۔

ایک ماہ میں بجلی 39 فیصد سے زیادہ مہنگی ہوئی تودیگر اشیاء کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے۔ ایک سال میں ایندھن 94 فیصد مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کرائے 65 فیصد تک بڑھ گئے۔سال بھر میں خوراک کے نرخ 28 فیصد تک بڑھے۔

دیہی علاقوں میں افراط زر اور بھی زیادہ 26.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ مہنگائی کی ڈبل ڈیجیٹ شرح گزشتہ 9 ماہ سے برقرار ہے۔

پچھلے ایک مہینے میں سبزیاں 25 فیصد، دال چنا 14 فیصد، پیاز 13.65 فیصد مہنگا،آلوکے نرخ 10.87 فیصد، بیسن اور گندم کے 10 فیصد،دال ماش کے پونے10 جبکہ دال مسور اور چائے کے نرخ 9 فیصد بڑھ گئے۔

گذشتہ ایک ماہ میں چینی، ٹماٹر اور پھلوں سمیت بعض اشیاء سستی ہوئیں ۔

سالانہ اعدادوشمار کی بات کی جائے تو سال بھر میں خوراک ساڑھے 28 فیصد، بجلی 86.72 فیصد، موٹر فیول 94 فیصد، ٹرانسپورٹ کرائے 64 اعشاریہ 73 فیصد تک بڑھ گئے۔

پانی، بجلی، رہائش اور فیول چارجز22 فیصد،صحت سہولیات کے 11 فیصد اور تعلیم کے اخراجات 10 فیصد بڑھ چکے ہیں۔

inflation

Tabool ads will show in this div