چین کا بے قابو راکٹ بحر ہند میں گرگیا

تفصیلات بتانے میں ناکامی پر ناسا کی چین پر تنقید

چین کا بے قابو راکٹ ملائیشیا قریب بحر ہند میں گرگیا، تفصیلات بتانے میں ناکامی پر امریکی خلائی ادارے ناسا نے چین پر تنقید کی ہے۔

امریکی خلائی کمان نے راکٹ کے دوبارہ زمین میں داخل ہونے کی تصدیق کی جبکہ چینی خلائی ایجنسی نے کہا ہے کہ راکٹ اسی علاقے کے قریب دوبارہ داخل ہوا اور اس کا بیشتر حصہ نیچے جاتے وقت جل گیا۔

بورنیو کے جزیرے پر ملائیشیا کے صوبے ساراواک میں لوگوں نے سوشل میڈیا پر راکٹ کے ملبے کو دیکھنے کی اطلاع دی جسے بہت سے لوگ پہلے تو شہاب ثاقب سمجھے، یہ چین کے سب سے بڑے راکٹ لانگ مارچ 5B کی تیسری پرواز تھی جو مدار میں پرزے لے جانے کیلئے کی گئی۔

گزشتہ ہفتے چینی راکٹ بے قابو ہونے کی خبروں پر پوری دنیا میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی کیونکہ راکٹ میکسیکو سے افریقہ کے جنوبی سرے تک کہیں بھی گرسکتا تھا جس سے آبادی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔

چین نے یہ راکٹ اپنے نامکمل تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر ایک لیب ماڈیول لانچ کرنے کے لیے 24 جولائی کو روانہ کیا تھا لیکن بعد میں چین نے بتایا تھا کہ راکٹ بے قابو ہوگیا ہے جسے ٹریک کیا جارہا ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چین راکٹ کی نقل و حرکت کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کرنے کے لیے پر عزم ہے، خدشات ہیں کہ راکٹ غیر متوقع طور پر زمین پر گرسکتا ہے اور جس آبادی والے علاقے پر گرا اس کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ چین کا تیسرا لانگ مارچ 5B لانچ ہے جس نے آؤٹ آف کنٹرول لینڈنگ کی اس سے قبل 2020 اور 2021 میں بھی چین کے دو راکٹ بے قابو لیندنگ کرچکے ہیں۔

2020 میں چین نے Tiangong کے بنیادی ماڈیول کو خلا میں لانے کے لیے لانگ مارچ 5B کا استعمال کیا تھا اور راکٹ کا ملبہ آئیوری کوسٹ میں گرا جس میں کوئی نقصان نہیں ہوا، 2021 میں چین نے اپنا پہلا لیب ماڈیول لانگ مارچ 5B پر شروع کیا جس کے ٹکڑے بحر ہند میں گرے۔

دوسری جانب نے NASA نے راکٹ بے قابو ہوکر زمین پر گرنے کے معاملے پر چین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے ٹویٹر پر کہا کہ راکٹ گرنے کی تفصیلات بتانے میں ناکامی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے، تمام خلائی سفر کرنے والی قوموں کو قائم کردہ بہترین طریقوں پر عمل کرنا چاہیے اور اس قسم کی معلومات کو پہلے سے شیئر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

بل نیلسن نے کہا کہ چین نے مخصوص رفتار کی معلومات کا اشتراک نہیں کیا، تمام ممالک کو اس قسم کی معلومات کا پہلے سے اشتراک کرنا چاہیے تاکہ ممکنہ ملبے کے اثرات کے خطرے کی قابل اعتماد پیش گوئی کی جاسکے۔

CHINA ROCKET

FAIL LANDING

Tabool ads will show in this div