سوشل میڈیا پر اظہار رائے کو دبانے میں تیزی

ٹوئٹر کو 6 ماہ میں اپلوڈ مواد ہٹانے اور نجی معلومات تک رسائی کی 60 ہزار درخواستیں موصول

سوشل میڈیا پر اظہار رائے کو دبانے میں تیزی آگئی، ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے اپلوڈ مواد کو ہٹانے اور صارف کی نجی معلومات طلب کرنے میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ کمپنی کو گزشتہ سال صرف چھ ماہ میں مختلف ممالک اور حکومتوں کی جانب سے ایسی 60 ہزار کے قریب درخواستیں موصول ہوئیں جن میں مواد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا اور صارف کی لوکیشن سمیت نجی معلومات مانگی گئیں۔

ٹوئٹر کے سیفٹی ہیڈ یویل روتھ کا کہنا ہے کہ ہم نے دیکھا ہے کہ Twitter پر صارفین کی شناخت معلوم کرنے سے متعلق قانونی حربے استعمال کرنے میں حکومتوں نے مزید جارحانہ انداز اپنایا ہے۔

صارفین کے اکاؤنٹس کی تفصیلات جاننے کیلئے سب سے زیادہ درخواستیں امریکا سے موصول ہوئیں جو کل موصول شدہ درخواستوں کا 20 فیصد ہیں جبکہ اسکے بعد بھارت کا نمبر ہے۔

ٹوئٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ سال 2021 میں حکومتوں کی جانب سے verified اکاؤنٹ والے صحافیوں اور میڈیا آوٹ لیٹس کو ٹارگٹ کرنے کی درخواستوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ اس حوالے سے 349 ویری فائیڈ صحافیوں یا میڈیا اداروں کے اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

فیس بک اور انسٹاگرم نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران حکومتوں کی جانب سے صارفین کی نجی معلومات حاصل کرنے کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹویٹر

social media

freedom of expression

Tabool ads will show in this div