پالیسی ساز بلوچستان کو معاشی تناظر میں دیکھ رہے ہیں، سینیٹر مشاہد حسین سید

گوادر پورے خطے کیلئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، ویبینار سے خطاب

سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ بلوچستان کو ماضی میں سیکیورٹی نکتہ نظر سے دیکھا جاتا تھا لیکن سی پیک کی وجہ سے اب ملک کے سب سے بڑے صوبے کو معاشی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

کراچی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز (نیما) کی جانب سے “ڈیولپمنٹ آف بلوچستان انڈر سی پیک” کے عنوان سے ایک ویبینا کا انعقاد کیا گیا، جس میں سی پیک اور چینی سرمایہ کاری کے حوالے سے مقررین نے اظہار خیال کیا۔

مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ گوادر کو سی پیک اور بلوچستان کی ترقی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس کے ذریعے جنوبی ایشیا، چین اور مڈل ایسٹ جڑ جائیں گے، گودار پورے خطے کیلئے اہم ہے۔

نیما کے ڈائریکٹر جنرل وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) عبدالعلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باجود انفرا اسٹرکچر، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے پیچھے ہے۔ انہوں نے پاک بحریہ کی کوسٹل ایریاز میں تعلیم اور صحت کے حوالے سے کوششوں کو سراہا۔

بلوچستان اکنامک فورم کے صدر سردار شوکت پوپلزئی نے بلوچستان کی جعرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں قدرتی وسائل کی وجہ سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے مواقع ہیں۔

انہوں نے کہا بلوچستان کے منصوبوں میں مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے اور مائیکرو لیول کے منصوبوں پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

ویبینار میں بڑی تعداد میں ممتاز شخصیات، سرکاری حکام، فیکلٹی ممبران، طلباء اور میری ٹائم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ ویبینار کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل نیما وائس ایڈمرل (ر) عبدالعلیم نے مہمان خصوصی، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور تقریب کے انعقاد پر ڈائریکٹر جنرل کراچی کموڈور (ریٹائرڈ) علی عباس کی سربراہی میں نیما ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ نیما ویبینار کی سفارشات کو متعلقہ حلقوں تک پہنچائے گا تاکہ ضروری اقدامات شروع کئے جاسکیں۔

بلوچستان

gwadar

Tabool ads will show in this div