اسپیکر کے انتخاب کے طریقہ کار پر مسلم لیگ ن کے اعتراضات

قانون کے مطابق سختی سے عمل نہ کیا گیا تو دیگر فورم سے رجوع کیا جائے گا

مسلم لیگ ن نے اسپیکر پنجاب اسمبی کے الیکشن کرانے کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

پنجاب اسمبلی کے نئے اسپیکر کا انتخاب آج ہورہا ہے، تاہم اسمبلی کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن نے الیکشن کرانے کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

اس حوالے سے چیف وہپ خلیل طاہر سندھو نے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور پینل آف چیئرمین کو خط لکھ دیا ہے اور کہا ہے کہ انتخابات کے عملے کے حوالے خدشات اور تحفظات ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ آج کا انتخاب آئین اور الیکشن رولز کے تحت کرایا جائے، عملے کی غیر جانبداری کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔

خط کے متن میں ہے کہ کسی بھی غلط کام کے نتیجے میں صرف جمہوریت کمزور ہوگی۔ قانون کے مطابق سختی سے عمل نہ کیا گیا تو دیگر فورم سے رجوع کیا جائے گا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کا انتخاب

پنجاب اسمبلی آج نیا اسپیکر منتخب کرے گی جبکہ ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر بھی ووٹنگ ہوگی۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے پی ٹی آئی کے سبطین خان اور ن لیگ کے سیف الملوک کھوکھرآمنے سامنے،دونوں امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے لیے ن لیگ نے سیف الملوک کھوکھر کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ سیف الملوک کھوکھر کو پی ڈی ایم میں شامل تمام اتحادی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

آج پنجاب اسمبلی کا اجلاس حسب معمول دو گھنٹے کی تاخیر سے پینل آف چیئرمین وسیم خان بادوزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔

راجہ بشارت نے اسپیکر کے انتخاب اور ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروا دی ہے۔

پنجاب اسمبلی نے کثرت رائے سے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک اعتماد کی قرارداد منظور کرلی ہے اور اب کل 4 بجے ہی ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ بھی ہوگی۔ انتخاب خفیہ رائے شماری سے کیا جائے گا۔

اپوزیشن اور حکومت دونوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہ بھرپور کامیابی حاصل کریں گے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ یہ سہرا کس کے سر سجتا ہے۔

pmln

Speaker Punjab Assembly

Tabool ads will show in this div