پشاور: بچیوں کو ریپ کے بعد قتل کرنیوالا سیریل کلر گرفتار

ملزم ریپ کیلئے اتوار کے دن کا انتخاب کرتا تھا

آئی جی خیبر پختونخوا نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور میں بچیوں کو ریپ کے بعد قتل کرنے والے پیشہ ور ملزم ( Serial Killer ) کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پشاور ( Peshawar ) میں جمعرات 28 جولائی کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس ( آئی جی پی) معظم جاہ انصاری نے میڈیا کو آگاہ کیا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں کم سن بچیوں کے ساتھ ریپ اور ان کے قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے پولیس پر ملزم کی گرفتاری کیلئے پریشر تھا۔

انہوں نے کہا کہ بچیوں سے ریپ کا کیس ہمارے لیے چیلنج تھا، پولیس پر ملزم کی گرفتاری کیلئے بہت پریشر تھا، ملزم بچیوں کو ریپ کے بعد انہیں قتل کر دیتا تھا، جس کے بعد پولیس نے تمام تر کوششیں اس کیس کو حل کرنے پر لگا دی تھیں، جس کی وجہ سے بچیوں کے ساتھ ریپ کا کیس ٹریس کیا گیا۔

سیریل کلر

آئی جی پولیس نے بتایا کہ یہ ایک ایسا سیریل کلر ہے جس پر کتابیں لکھی جا سکتی ہے، ملزم انتہائی شاطر، چلاک، ذہنی بیمار اور سائیکو پیتھ ہے۔ ملزم کی شناخت سہیل کے نام سے کی گئی ہے، جو ڈیری کا رہائشی ہے اور زری کا کام کرتا ہے۔ ملزم پشاور شہر کے اندر ہی کام کرتا تھا اور واردات کیلئے اتوار کا دن ہی منتخب کرتا تھا۔

معظم جاہ کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش اتوار کے روز واردات کرنے کے حوالے سے بھی عجیب انکشافات کیے۔ یہ ایک ایسا ملزم ہے، جس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے، پہلے دو واقعات میں ملزم کا سراغ نہیں ملا تھا، تاہم تیسرے واقعہ کے بعد ہمیں جائے وقوع سے سراغ ملا۔

ملزم کی ایک اور عجیب عادت یہ تھی کہ وہ واردات کے فوراً بعد کپڑے تبدیل کرتا تھا۔

دہشت گردوں کی بھتہ خوری ( Extortion )

سما کے رپورٹر عبدالرحمان کی جانب سے اس موقع پر خیبر پختونخوا خصوصاً پشاور میں دہشت گردوں کی جانب سے موصول بھتہ خوری کی موبائل کالز سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بھتہ خوری کیلئے کالز کے واقعات بہت پرانے ہیں، تاہم میرے علم میں ایسی بات نہیں ہے کہ وزرا یا اسپیکر صوبائی اسمبلی کو بھتہ خوری کیلئے کوئی موبائل کال آئی ہے۔

تاہم یہاں انہوں نے بھتہ خوری میں استعمال ہونے والے بین الاقوامی سمز کا ذکر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بھتہ خوری کیلئے انٹرنیشنل نمبرز استعمال کیے جاتے ہیں، جس میں زیادہ تر افغان سمز یا یو اے ای اور سعودی کی سمز سامنے آئی ہیں، جب کہ اس سلسلے میں وزارت خارجہ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ بھتہ خوروں کو قانون کی گرفت میں لانے کیلئے محکمہ انسداد دہشت گردی ( سی ٹی ڈی ) کو آپریشن کی ہدایت کی گئی اور کافی لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔

افسوس ناک بات ہے کہ یہ اب ایک منافع بخش کاروبار بن رہا ہے، کچھ لوگ سعودی عرب ٹور پر جاتے ہیں اور وہاں سے سم لاتے ہیں تاکہ ان کو ٹریس نہ کیا جا سکے، اس سلسلے میں تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔

پشاور

RAPE CASE

KP police

SERIAL KILLER

ASSUALT CASE

MOAZZAM JAH ANSARI

Tabool ads will show in this div