ٹویوٹا کے بعد سوزوکی نے بھی گاڑیوں کی پروڈکشن بند کرنے کا عندیہ دیدیا

کمپنیوں کو بکنگ کے مطابق گاڑیوں کی ڈیلیوری میں بھی مشکلات کا سامنا

پاکستان میں آٹو انڈسٹری بحرانی کیفیت سے دوچار ہوگئی۔ آٹو کمپنیوں کی جانب سے نئی گاڑیوں کی بکنگ پہلے ہی بند ہے، پہلے ٹویوٹا کی جانب سے نئی گاڑیوں کی پروڈکشن معطل کرنے کا اعلان کیا گیا اور اب بدھ کو پاک سوزوکی کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ نئی گاڑیوں کی بکنگ یکم جولائی سے بند ہے اور پروڈکشن بھی بند کرنی پڑرہی ہے۔

پاک سوزوکی کے ترجمان شفیق احمد شیخ کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایچ ایس کوڈ 8703 کے تحت درآمدات کیلئے پیشگی شرط لگائی ہے، جس میں گاڑیوں کے سی کے ڈیز (گاڑیوں کے حصے کو امپورٹ کرنے کے بعد جوڑے جاتے ہیں) بھی شامل ہیں، اس نئے میکنزم سے بندرگاہ سے کنسائنمنٹ کی کلیئرنس متاثر ہورہی ہے، اس کے علاوہ کمرشل بینک بھی ایل سیز (لیٹر آف کریڈٹ) نہیں کھول رہے، جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ اگست میں سی کے ڈی اور مطلوبہ خام مال امپورٹ نہ ہونے کے باعث پلانٹ بند ہوجائے گا۔

شفیق احمد کا کہنا ہے کہ جولائی میں کمپنی کی پروڈکشن جاری رےہ گی، جس کے مطابق 22 جون تک کی بکنگ کے مطابق گاڑیوں کی ڈیلیوری کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے تاہم اگست کے بعد صورتحال خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ یکم اگست سے نئی گاڑیوں کی پروڈکشن بند کی جارہی ہے۔

ٹویوٹا کمپنی کے مطابق یکم جولائی تا 17جولائی عید تعطیلات اور درآمدی مشکلات کے باعث پروڈکشن بند تھی جبکہ اس صورتحال کے پیش نظر کمپنی کی جانب سے 18 مئی سے نئی گاڑیوں کی بکنگ بھی بند ہے۔

آٹو انڈسٹری کے مطابق دیگر آٹو کمپنیوں کو بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے اور انہوں نے نئی بکنگ پہلے ہی بند کی ہے، اب پروڈکشن بھی بند کی جارہی ہے۔

پاکستان

toyota

Pak Suzuki

automobile

Tabool ads will show in this div