گزشتہ مالی سال کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ 17ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا

حکومتی اقدامات کے باجود جون کے خسارے میں 59فیصد اضافہ ریکارڈ

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 2021.22کے دوران ملک کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ 17 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جو اس سے پچھلے سال 2 ارب 82 کروڑ ڈالر تھا یعنی 2020.21 کے مقابلے میں 2021.22 کے دوران کرنٹ اکاونٹ خسارے میں 517 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسی طرح گزشتہ مالی سال کے آخری ماہ جون (2022) کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ بھی 2 ارب 27 کروڑ ڈالر رہا جو اس سے پچھلے ماہ مئی کے ایک ارب 43 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 59 فیصد اور جون 2021 کے ایک ارب 63 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 39 فیصد زیادہ ہے۔

کرنٹ اکاونٹ خسارے بڑھنے کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ ہے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال2022 کے دوران اشیاء اور خدمات کا درآمدی حجم 84 ارب 19 ارب ڈالر رہا جب کہ اس کے مقابلے میں 39 ارب 41 کروڑ ڈالر کی اشیاء اور خدمات برآمد کی جاسکیں جس سے درآمدات اور برآمدات کا خسارہ (تجارتی خسارہ) 44 ارب 77 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔

واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل وگیس کی بلند قیمتوں کی وجہ سے درآمدات کا حجم بڑھ گیا ہے حکومت کی جانب سے لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی اور دیگر اقدامات کے باجود گزشتہ ماہ جون میں درآمدات کا حجم 7 ارب ڈالر سے زیادہ رہا جو اس سے پچھلے ماہ مئی کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہے اور جون2021 کے مقابلے میں یہ اضافہ 12 فیصد زیادہ ہے تاہم توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ جولائی کے مہینے میں درآمدی حجم میں کمی آئے گی۔

تجارتی خسارہ جو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کا سبب بن رہا ہے جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی مسلسل کمی آرہی ہے اور فروری کے بعد اب تک زرمبادلہ کے ذخائر میں 7 ارب ڈالر کی کمی آچکی ہے زرمبادلہ کے ذخائر جس تیزی سے گر رہے ہیں اس کا اثر پاکستانی روپے کی بے قدری کی صورت میں سامنے آرہا ہے جس کے مقابلے میں ڈالر نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہے۔

trade deficit

Tabool ads will show in this div