کیا کراچی کی پہچان اور خوبصورت رنگوں سے سجی منی بسیں ختم ہونے جارہی ہیں؟

نئی بسیں شہر قائد کی ثقافت کیلئے خطرہ بن گئیں

سبز، لال، نیلے، پیلے اور قوس قزاح کی طرح بکھیرے بے شمار رنگوں، پھول بوٹیوں، برقی قمموں، پراندوں اور موتیوں سے سجی کراچی کی پہچان سمجھی جانیوالی منی بسیں شہر کی سڑکوں سے غائب ہونیوالی ہے، کیونکہ ان کی جگہ نئی لگژری بسیں لے رہی ہیں۔

کراچی کی بسوں پر کئے جانیوالا آرٹ جو شہر کی پہچان تصور کیا جاتا تھا لیکن نئی بسوں کی آمد کے ساتھ ہی شہر کی سڑکوں کے ثقافتی رنگ شاید مستقبل میں لوگوں کو دیکھنے کو نہ ملیں۔

سندھ حکومت چین سے درآمد شدہ نئی بسیں سڑکوں پر لے آئی ہے، لیکن ان میں پرانی طرز کی گاڑیوں کے رنگوں کی کمی جیسے خاص طور پر محسوس ہورہی ہے، بس میں سوار ہو تو نہ بالی ووڈ کے 90ء کی دہائی کے گانے سنائی دیتے ہیں اور نہ ہی خوبصورت آرٹ ورک نظر آتا ہے۔

بسوں کو سجانے کے کاروبار سے وابستہ آرٹسٹ عبدااللہ حبیب کہتے ہیں کہ ویسے ہی شہر میں بسیں کم ہوتی چلی جارہی ہیں، اگر نئی بسوں میں آرٹ ورک کی جگہ مل جاتی تو ان کا کاروبار بہتر ہوسکتا تھا، روایتی رنگوں سے سجی بسیں تو کراچی شہر کی پہچان ہیں، شاید ہی دنیا میں کسی اور ملک یا شہر میں اتنی رنگین ٹرانسپورٹ دکھائی دے۔

دنیا کے دوسرے ممالک سے آنیوالے سیاحوں کیلئے بھی پاکستانی بسوں اور ٹرک کا آرٹ ورک منفرد اور الگ نوعیت کا تجربہ رہا۔

نئی بسوں کے ذریعے شہر قائد کو 14 برس کے طویل انتظار کے بعد بہتر سفری سہولیات مسیر تو آئی ہے لیکن اندیشہ ہے کہ 70ء کی دہائی کی ٹرام سروس قصہ پارینہ بن گئی ویسے ہی ڈبلیو 11 اور دیگر منی بسیں بھی شاید اب ماضی کا حصہ نہ بن جائیں گی۔

شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا بلاشبہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، تاہم نئی تبدیلیوں کے ساتھ ان باتوں پر بھی غور کرنا بے حد ضروری ہے کہ ثقافت کے رنگ کہیں نئی تبدیلی سے پھیکے نہ پڑجائیں۔

کراچی

INTERCITY BUSES

Tabool ads will show in this div