وزیرِاعظم کا گندم کے ذخیرے کیلئےجامع منصوبہ بندی نہ ہونے پر اظہار تشویش

زرعی ملک ہونے کے باوجود گزشتہ دورِ حکومت میں غذائی بحران آتے رہے، وزیراعظم

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ زرعی ملک میں گزشتہ دورِ حکومت میں غذائی بحران آتے رہے، گزشتہ حکومت نے گندم کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی نہ کرکے 22 کروڑ عوم سے زیادتی کی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں گندم کے موجودہ ذخائر، ممکنہ طلب اور درآمد کے ٹینڈرز پر جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزراء مفتاح اسماعیل، نوید قمر، طارق بشیر چیمہ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں حالیہ گندم کی پیداوار کا تخمینہ 26.389MMT لگایا گیا، جب کہ پچھلے سال کے 1.806 ملین میٹرک ٹن (MMT) ذخائر موجود ہیں. 30.79MMT کی مجموعی قومی طلب کے مقابلے کل ذخائر 28.199MMT ہیں. طلب اور ذخائر میں فرق کو ختم کرنے کیلئے حکومت نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ذریعے بروقت گندم کی درآمد کا فیصلہ کیا۔

فیصلے کے مطابق پہلی کھیپ کے بعد دوسرے ٹینڈر میں وزیرِ اعظم کی ہدایات کی روشنی اور حکومتی کوششوں کے نتیجے میں 300000 میٹرک ٹن پر فی میٹرک ٹن 34.54 ڈالر اور مجموعی طور پر قومی خزانے کا 1 کروڑ 3 لاکھ امریکی ڈالر بچایا گیا۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حکومت کے روس کے ساتھ معاہدے کے تحت 20 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد پر پیش رفت جاری ہے جو حتمی مراحل میں ہے.

اجلاس کو گوادر بندرگاہ کے ذریعے گندم کی درآمد پر پیش رفت پر بھی تفصیلی طور پر اگاہ کیا گیا.

اس موقع پر وزیرِاعظم شہبازشریف نے گندم ذخائر کیلئے جامع منصوبہ بندی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسوسناک بات ہے کہ زرعی ملک میں گزشتہ دورِ حکومت میں غذائی بحران آتے رہے، گندم کی طلب اور ذخائر کیلئے جامع منصوبہ بندی نہ کر کے 22 کروڑعوام کے ساتھ نا انصافی کی گئی۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ فصل تک گندم اجراء کے ساتھ ساتھ اضافی ذخیرہ بھی یقینی بنایا جائے، گندم کی درآمد کے دوران معیار اور مقدار کو یقینی بنانے کیلئے بین الاقوامی کنسلٹنٹ سے مدد لی جائے، گندم خریداری میں جس حد تک ممکن ہو قیمت کو کم کروا کر ملک و قوم کا پیسہ بچایا جائے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایات جاری کیں کہ گندم کی گوادر بندگاہ کے ذریعے درآمد کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کو جلد یقینی بنایا جائے۔ اور وزیراعظم نے خصوصی طور پر کہا کہ Buffer Stock متعین کرکے جلد اس پر رپورٹ پیش کی جائے۔

وزیرِ اعظم نے وزراتِ تجارت، وزارتِ فوڈ سیکیورٹی اور تمام متعلقہ وزارتوں اور حکام کی ٹینڈر میں فی ٹن لاگت میں کمی کیلئے کوششوں کو سراہا۔

Wheat crisis

PM SHAHBAZ SHARIF

Tabool ads will show in this div