برطانیہ میں اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار آصف حفیظ کے اہلخانہ کا انصاف کا مطالبہ

پاکستانی تاجر آصف حفیظ کے بھتیجے فہد حفیظ کی پریس کانفرنس

رپورٹ: نوید چوہدری

برطانیہ کے بلمارش جیل میں منشیات اسمگلنگ کے الزام میں سنہ 2017 سے قید پاکستانی تاجر آصف حفیط کے اہلخانہ نے برطانوی حکام سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

لندن میں پاکستانی تاجر آصف حفیظ کے بھتیجے فہد حفیظ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ برطانوی پولیس نے 2017 میں آصف حفیظ کو منشیات اسمگلنگ کے جھوٹے کیس میں گرفتار کیا تھا اور 3 سال تک ہمیں ملنے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔

فہد حفیظ کا کہنا تھا کہ اب پاکستانی وزرات خارجہ نے ہائی کمشنر کے ذریعے برطانوی حکومت سے رابطہ کیا ہے جبکہ ہمیں عالمی انسانی حقوق کی تنظیم کے ذریعے ان سے ملنے کی اجازت ملی ہے۔

آصف حفیظ کے بھتیجے فہد حفیظ نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ آصف حفیظ کا ٹرائل جلد کرنے یا ٹرائل پاکستانی عدالتوں میں کرنے کی اجازت دے۔

واضح رہے کہ ہیروئن امپورٹ کرنے سے متعلق ایکسٹراڈیشن کی امریکی درخواست پر نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ہاتھوں 5 سال سے گرفتارپاکستانی تاجر محمد آصف حفیظ برطانیہ میں اپنی 3 مہنگی پراپرٹیز بھی کھو چکا ہے۔

تاجر محمد آصف حفیظ پر الزام کیا ہے؟

آصف حفیظ اس وقت بلمارش جیل کے ہائی سیکورٹی یونٹ میں قید ہے اور یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس کی رولنگ کا منتظر ہے کہ آیا اسے امریکہ کے حوالے کیا جائے یا نہیں، جہاں اسے کلاس اے ڈرگس امپورٹ کرنے کے 3 الزامات کا سامنا ہے اور ہر ایک میں کم از کم سزا عمر قید ہے۔

آصف حفیظ کو امریکی فرد جرم میں ڈرگ سیلنگ نیٹ ورک کا سلطان قرار دیا گیا ہے جو بھارت، پاکستان، افعانستان، مڈل ایسٹ اور افریقی ملکوں تک پھیلا ہوا ہے۔

امریکا نے آصف کا تعلق بھارتی شہری گوسوامی اور اس کی بیوی معروف اداکارہ سے بھی جوڑا ہے جو کہ آصف حفیظ گینگ کا حصہ تھے اور بھارت میں ایفیڈرین بنانے کی فیکٹری چلاتے تھے۔ آصف حفیظ نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور یہ موقف اختیافر کیا کہ اسے امریکی حکام نے پھنسایا ہے اور اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔

nca

UK

Pakistani businessman

Tabool ads will show in this div