سینما گھر ہی کتنے ہیں؟ کیا اس فیصلے سے واقعی بجلی کی بچت ہوگی؟

بجلی کی بچت کے لیے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اوقات کار پر سینما مالکان اور فلم ڈسٹری بیوٹرزکو اعتراض

کروناکے بعد رواں برس سینما گھروں کی رونقیں بحال ہوئی لیکن بجلی کی بچت کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اوقات کار نے سینما مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز کو نئی پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔

حکومت سندھ نے بجلی کی بچت کے لئے اوقات کار میں توسیع کی ہے جس کے مطابق اب تفریحی مقامات سمیت سینما گھر بھی رات ساڑھے گیارہ بجے تک بند کر یں جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے سینما گھروں کے مالکان ، پروڈیوسرز اور ڈسٹری بیوٹرز پریشان ہیں۔

پاکستان کی معروف فلم ڈسٹریبیوشن کمپنی ایورریڈی کے چیئرمین ستیش آنند کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے سے سینما کا کاروبار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ کراچی جیسے میٹروپولیٹن میں جہاں زیادہ تر لوگ دن بھر کام کاج کرنے کے بعد رات نو بجے کے بعد ہی گھروں سے باہر نکلتے ہیں، لوگوں کے لئے تفریح کے مواقع ویسے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ ایسے میں ساڑھے نو بجے کا اگر آخری شو ہوگا تو لوگ یہ شو کیسے دیکھ سکیں گے۔

ستیش آنند نے مزید کہا کہ اگلے مہینے میں ماہ محرم کے احترام کی وجہ سے دس دن کاروبار معمول سے کم ہی ہوتا ہے ۔ اگر ویک اینڈز میں بھی لیٹ شو نہ مل سکیں تو سینما اور اس سے منسلک افراد کا کاروبارکا کیا ہوگا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ یہ بات ماننے کی ہے کہ کراچی میں زیادہ ترسینما گھر شاپنگ مالز میں ہی قائم ہیں ، اس کے لئے حکومت کو نئی تجاویز بھی دیں، حکومت کو اس مسئلے کا سنجیدگی سے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔

فلم پروڈیوسر حسن ضیا بھی حکومت سندھ کے اس فیصلے سے نالاں نظر آرہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ پہلے ہی کراچی میں چار سے پانچ مقامات پر ملٹی پلکسز اور سینما اسکرین ہیں۔ کورونا کے دوران اور بعد میں فلم سے وابستہ افراد نے مشکل ترین وقت دیکھا۔ رواں برس سینما گھر کھلے مگر حکومت کی جانب سے کیے گئے اس فیصلے سے ایک مرتبہ پھر سینما سے منسلک افراد کا کاروبار متاثر ہو گا ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی میں بہت سارے سینما گھر نہیں تو بجلی کی بچت کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟

حسن ضیا نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فلمی صعنت کو ریلیف دینے کا اعلان خوش آئند تھا، جس سے توقع کی جا رہی تھی کہ کمزروترین صنعت میں کچھ بہتری آسکے گی ۔ حسن ضیا نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ رواں برس تو بیس کے قریب فلمیں سینما گھروں میں نمائش کے لئے پیش کی جارہی ہیں ۔ اگر ایسے ہی حالات رہے تو اگلے برس صرف سات یا آٹھ فلمیں ہی مکمل ہو سکیں گی۔

کراچی میں قائم کیپری سینما کے منیجرعزیز خٹک کے مطابق حکومت کی جانب سے ابھی تک کیپری سینما کو ایسی کوئی ہدایت نہیں ملی تاہم اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ اچھا نہیں ہوگا۔ پہلے ہی سینما کی صعنت سے وابستہ افراد مالی مشکلات سے دوچار ہیں ۔ کورونا کی عالمی وبائی صورتحال میں کیپری سینما ہی وہ واحد سینما تھا جس میں کسی ملازم کو بےروزگار نہیں ہونے دیا تاہم اس فیصلوں سے سینما بری طرح مالی مسائل کا شکار ہوجائے گا۔

LOLLYWOOD

Pakistani cinema

Tabool ads will show in this div