بجلی کےبنیادی ٹیرف میں اضافےکی درخواست،سماعت مکمل،فیصلہ جلد متوقع

بجلی کی پیداواری لاگت میں 16 گنا اضافہ ہوگیا ہے

نیپرا نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں مرحلہ وار اضافے کی حکومتی درخواست پر سماعت مکمل کرلی۔ فیصلہ جلد ہی جاری کیا جائے گا۔ چیئرمین توصیف ایچ فاروقی کا کہنا تھا کہ بجلی کی پیداواری لاگت میں 16 گنا اضافہ ہوگیا ہے،صورتحال اندازوں سے بہت آگے جاچکی ہےاوراگر یہ قیمت صارف ادا نہیں کرے گا تو کون کرے گا؟۔

بدھ کواسلام آباد میں چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے حکومتی درخواست پر سماعت کی۔

ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن محفوظ بھٹی نے بتایا کہ نیپرا اتھارٹی 4 جون کو بجلی 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے چکی ہے،چاہتے ہیں کہ صارفین پر ایک ساتھ بوجھ نہ ڈالا جائے،اضافے کے باوجود حکومت بجلی ٹیرف پر 220 ارب روپے کی سبسڈی دے گی،قیمت میں اضافے سے تقریبا پچاس فیصد صارفین پر اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ عالمی منڈی میں فیول پرائسز بڑھ رہی ہیں،3 سال پہلے جو درآمدی کوئلہ 50 ڈالر فی ٹن تھا وہ آج 400 ڈالر پر پہنچ چکا ہے، فیول کی لاگت 8 گنا بڑھ چکی ہے،روپے کے مقابلے میں ڈالر بھی ڈبل ہو چکا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ عالمی قیمتیں اور ڈالر کنٹرول کرنے میں نیپرا کا کوئی اختیار نہیں،اندازہ تھا کہ ڈالر 200 روپے سے اوپر نہیں جائے گا مگر اب تو وہ 222 روپے سے بھی اوپر جا چکا ہے۔

چیئرمین نیپرا نے واضح کیا کہ ٹیرف میں اضافے کے باوجود فیول پرائس اور سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ لگتی رہیں گی۔

حکومت کی نیپرا کو درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جولائی سے بجلی3روپے50پیسے فی یونٹ مہنگی کی جائے۔ اگست سے بجلی مزید3روپے50پیسےفی یونٹ مہنگی کرنے کی سفارش کی ہے۔

حکومت کی جانب سے اکتوبرسےبجلی کےبنیادی ٹیرف میں91پیسےفی یونٹ بڑھانےکی درخواست بھی کی گئی۔

نیپرا اتھارٹی فیصلہ نوٹیفیکشن کیلئے وفاقی حکومت کو بھجوائے گی۔کےالیکٹرک سمیت تمام ڈسکوز کیلئے بجلی کا بنیادی ٹیرف بڑھانے کی تجویز ہے۔

اس سے پہلے نیپرا نے بجلی ٹیرف میں یکساں طور پر 7.91 روپے اضافے کی منظوری دی تھی۔

POWER TARRIF

Tabool ads will show in this div